نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 517 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 517

انکار کی حالت کو عجب کہتے ہیں۔2۔پیش آمدہ امر کے پسند کرنے کو بھی عجب کہتے ہیں۔3۔اس حالت رعب کو بھی عجب کہتے ہیں جو انسان پر کسی چیز کو بہت ہی بڑا سمجھنے کے وقت طاری ہوتی ہے۔(اقرب) (ماخوذ از تفسیر کبیر ) حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل دی تو اس نے اس عقل کو استعمال کر کے اپنی آسانیوں کے سامان پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَن عملًا۔(الکھف (8) یعنی زمین پر جو کچھ ہے اُسے یقینا ہم نے زینت بنایا ہے تا کہ ہم انہیں آزمائیں کہ کون بہترین عمل کرتا ہے۔پس یہاں زمین کی ہر چیز کو زینت قرار دے کر اُس کی اہمیت بھی بیان فرما دی۔ہر نئی ایجاد جو ہم کرتے ہیں اُس کو بھی زینت بتا دیا، اُس کی اہمیت بیان فرمائی لیکن فرمایا کہ ہر چیز کی اہمیت اپنی جگہ ہے لیکن اس کا فائدہ تبھی ہے جب احسن عمل کے ساتھ یہ وابستہ ہو۔پس ہمیں نصیحت ہے کہ ان ایجادات سے فائدہ اٹھاؤ لیکن احسن عمل مڈ نظر رہے۔یہ ایجادات ہیں، ان کی خوبصورتی تبھی ہے جب اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق کام کیا جائے یا لیا جائے ، نہ که فتنه و فساد پیدا ہو۔اگر احسن عمل نہیں تو یہ چیزیں ابتلا بن جاتی ہیں۔جیسا کہ پہلے میں نے مثالیں دیں۔یہ ٹیلی ویژن ہی ہے جو فائدہ بھی دے رہا ہے اور ابتلا بھی بن رہا ہے۔بہت سے گھر انٹرنیٹ اور چیٹنگ کی وجہ سے برباد ہورہے ہیں۔بچے خراب ہورہے ہیں اس لئے کہ آزادی کے نام پر اللہ تعالیٰ کی مہیا کی گئی چیزوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔حقیقی عبد کے 66 لئے حکم ہے کہ ہمیشہ احسن قول اور احسن عمل کو سامنے رکھو اور کام کا مقصد اللہ تعالی کی رضا ہو۔“ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید واللہ تعالیٰ فرمودہ 18 اکتوبر 2013ء ،خطبات مسرور جلد 11 صفحہ 577) 517