نُورِ ہدایت — Page 501
وہی بیان ہوا ہے جب مسلمانوں کے اسلام سے روگردان ہوجانے کی اور کافروں کے کفر میں ترقی کر جانے کی خبر دی گئی ہے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے اس پہلوان کا ظہور ان گالیوں کی روکو تعریف سے بدلوا دے مقام محمود کا ہی ایک کرشمہ ہے۔میں نے اسی خدمت میں حصہ لینے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کرنے کے لئے سال میں ایک دن مقرر کیا ہوا ہے جس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ اپنے ان تاثرات کو بیان کرتے ہیں۔جو آپ کے حالات پڑھنے سے ان کے دلوں میں پڑتے ہیں۔رقيم الصلوة نماز پنجگانہ اور تہجد کے ذکر کے بعد جو مقام محمود کا ذکر کیا ہے اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس شخص کے دشمن زیادہ ہوں اور بدگولوگوں کی تعداد بڑھ جائے اس کا علاج یہ نہیں کہ وہ ان سے الجھتا پھرے۔بلکہ ایسے وقت میں انابت الی اللہ اور بارگاہ الہی میں فریاد کرنا ہی ان فتنوں کو دور کرتا ہے بلکہ اگر انابت بہت بڑھ جائے تو مذمت تعریف سے اور گالیاں دعاؤں سے بدل جاتی ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی ہوا کہ جولوگ آپ کو گالیاں دیتے تھے ایک دن عاشق صادق ہو گئے۔مُدْخَلَ صِدْقٍ : لفظ مُدْخَلَ دَخَلَ سے باب افعال کا مصدر میمی۔اسم مفعول او رظرف زمان و مکان ہے۔اس کے معنی داخل ہونا۔داخل کیا ہوا۔داخل ہونے کا وقت اور داخل ہونے کی جگہ کے ہیں (اقرب) صدق کے معنی ہیں۔نَقِيضُ الْكِذَبِ سچائی - الْفَضْلُ فضیلت - الصَّلاحُ خوبی اور اچھائی۔امجد۔سنجیدگی۔الشدَّةُ وَالصَّلابَةُ سختی اور مضبوطی۔فَإِذَا اضَفْتَ إِلَيْهِ قُلْتَ رَجُلُ صِدْقٍ أَلَى نِعْمَ الرَّجُلُ اگر لفظ صدق مضاف الیہ واقع ہو تو مضاف کی ہر رنگ کی خوبی پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ رَجُلُ صِدْقٍ کے معنی ہوں گے۔ہر لحاظ سے خوبیوں والا شخص ( اقرب) وَيُعَبر عَنْ كُلَّ فِعْلٍ فَاضِلٍ ظَاهِرًا وَبَاطِنَّا بِصِدْقٍ فَيُضَافُ إِلَيْهِ ذَلِكَ الْفِعْلُ الَّذِي يُوْصَفُ بِهِ کسی فعل کی ظاہری و باطنی خوبی کا اظہار کرنے کے لئے اسے لفظ صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔پس مُدْخَلَ صِدْقٍ کے معنے 501