نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 35 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 35

بے شک وہ ہر شبہ کو جو نا کامی کی حد تک پہنچانے والا ہو زائل کر دیتی ہے اور ہر غم کو جس نے بوڑھا کر دیا ہو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہے اور ہر گمشدہ راہنما کو ( راہ راست پر ) واپس لاتی ہے اور ہر خطرناک دشمن کو شرمندہ کرتی ہے۔طالبانِ ہدایت کو بشارت دیتی ہے۔گناہوں کے زہر اور دلوں کی کجی کے لیے اس جیسا کوئی اور معالج نہیں اور وہ حق اور یقین تک پہنچانے والی ہے۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 145) ایک خاصہ روحانی سورہ فاتحہ میں یہ ہے کہ دلی حضور سے اپنی نماز میں اس کو ورد کر لینا اور اس کی تعلیم کو فی الحقیقت سچ سمجھ کر اپنے دل میں قائم کر لینا تنویر باطن میں نہایت دخل رکھتا ہے۔یعنی اس سے انشراح خاطر ہوتا ہے اور بشریت کی ظلمت دور ہوتی ہے اور حضرت مبدء فیوض کے فیوض انسان پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور قبولیتِ الہی کے انوار اس پر احاطہ کر لیتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ ترقی کرتا کرتا مخاطبات الہیہ سے سرفراز ہو جاتا ہے اور کشوف صادقہ اور الہامات واضحہ سے تمتع تام حاصل کرتا ہے اور حضرت الوہیت کے مقربین میں دخل پالیتا ہے اور وہ وہ عجائبات القائے غیبی اور کلام لا ریبی اور استجابت ادعیہ اور کشف مغیبات اور تائید حضرت قاضی الحاجات اُس سے ظہور میں آتی ہیں کہ جس کی نظیر اس کے غیر میں نہیں پائی جاتی۔(براہین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد اول حاشیہ نمبر 11 صفحہ 626-629) یہ عاجز اپنے ذاتی تجربہ سے بیان کرتا ہے کہ فی الحقیقت سورہ فاتحہ مظہر انوار الہی ہے۔اس قدر عجائبات اس سورۃ کے پڑھنے کے وقت دیکھے گئے ہیں کہ جن سے خدا کے پاک کلام کا قدر و منزلت معلوم ہوتا ہے۔اس سورہ مبارکہ کی برکت سے اور اس کے تلاوت کے التزام سے کشف مغیبات اس درجہ تک پہنچ گیا کہ صد با اخبار غیبیہ قبل از وقوع منکشف ہوئیں اور ہر یک مشکل کے وقت اس کے پڑھنے کی حالت میں عجیب طور پر رفع حجاب کیا گیا اور قریب تین ہزار کے کشف صحیح اور رویا صادقہ یاد ہے کہ جواب تک اس عاجز سے ظہور میں آچکے اور صبح صادق کے کھلنے کی طرح پوری بھی ہو چکی ہیں۔اور دوسو جگہ سے زیادہ قبولیت دعا 35