نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 260 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 260

فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا - وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ مرضٌ : مفردات میں مرض کے معنے یہ کئے گئے ہیں کہ ہر وہ چیز جو انسان کو صحت کی حد سے باہر نکال دے۔اور اس کی دو اقسام ہیں۔اول جسمانی مرض۔دوسرے جملہ بری عادات جیسے جہالت، بزدلی، بخل، نفاق وغیرہ۔اس آیت میں بیماری سے مراد نفاق کی بیماری ہے۔پہلے رکوع کے شروع میں روحانی طور پر تندرست لوگوں کا ذکر تھا۔پھر کفر کے بیماروں کا ذکر ہوا۔اب اس آیت میں نفاق کی بیماری کا ذکر کیا گیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نفاق کی بیماری کی مندرجہ ذیل علامات بتائی ہیں اذا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ (بخاری كتاب المظالم و كتاب الشهادات) یعنی جب منافق بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو پورا نہیں کرتا اور جب اس کے پاس کوئی امانت رکھا ئیں تو وہ خیانت کرتا ہے اور جب معاہدہ کرے تو اسے توڑ دیتا ہے اور جب جھگڑا ہو تو گالیوں پر اتر آتا ہے۔یہ علامات منافقت کا لازمہ ہیں۔کیونکہ منافق چونکہ اپنے نفاق کو چھپانا چاہتا ہے اس کا ذریعہ وہ یہی سمجھتا ہے کہ اگر اس پر کوئی الزام لگائے اور اس کے عیب کو ظاہر کرے تو وُہ جھوٹ بولے اور اس سے لڑ پڑے اور گالیوں پر اتر آئے تا کہ لوگوں کی توجہ دوسری طرف پھر جائے۔اسی طرح اُسے جھوٹ بولنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے اندر رونہ کو چھپا نہیں سکتا۔وعدہ خلافی اور عہد کو توڑنا بھی اس کے خواص میں ہونا لازمی ہے کیونکہ منافق وہی ہوتا ہے جو ایک قوم سے بظاہر تعلق رکھ کر دراصل اس سے بگاڑ رکھے۔امانت میں خیانت بھی اس کا ضروری خاصہ ہوتا ہے کیونکہ اپنے قومی را ز غیروں کو بتائے بغیر وہ ان میں مقبول نہیں ہوسکتا۔260