نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 221 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 221

قرآن کریم کا یہ دعوی کہ اس میں جس قدر امور میں تحقیقی ہیں ظنی نہیں کوئی معمولی دعوی نہیں۔پس لاریب فیہ کہہ کر قرآن کریم نے اس امر کو پیش کیا ہے کہ گو قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے یعنی ہر ضروری امر کے متعلق اس میں بحث کی گئی ہے پھر بھی وہ ظنی اور شکی امور کو پیش نہیں کرتا بلکہ ہر امر کی دلیل ساتھ دیتا ہے اور تحقیق کے ساتھ ہر مسئلہ کو پیش کرتا ہے اور یہ امر قرآن کریم کی افضلیت کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔کیونکہ یہ امر تو آسان ہے کہ ایک دو امور جو تحقیقی طور پر ثابت ہو چکے ہوں ان کو با دلائل بیان کر دیا جائے لیکن یہ امر نہایت مشکل ہے کہ ہر ضروری امر کے متعلق بحث بھی کی جائے اور پھر ہر بات کو دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جائے اور ظن اور گمان کی حد سے نکال کر یقین اور وثوق کے مقام پر کھڑا کر دیا جائے۔ظاہر ہے کہ جو کتاب اپنے تمام دعاوی کو اس طرح پیش کرے گی اس کے سچا ہونے میں کسی منصف مزاج کوشک اور ترڈ د نہ ہو سکے گا۔لا ريب فيه کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ قرآن کریم کے محفوظ ہونے میں کوئی شک نہیں اور ذلك الكتب کے بعد یہ الفاظ اس مضمون پر دلالت کرتے ہیں کہ اس کتاب کے بعد کوئی اور کتاب نازل نہ ہوگی اور یہ دنیا کے لئے آخری ہدایت نامہ ہے۔کیونکہ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ذلك الكتب کا ایک مفہوم یہ ہے کہ یہ کامل کتاب ہے اور تمام انسانی ضروریات کے پورا کرنے کا سامان اس میں موجود ہے۔اس قسم کی کتاب کے بعد دوسری کتاب اسی صورت میں نازل ہوسکتی ہے جب وہ محفوظ نہ رہے۔کیونکہ نئے قانون کی دو ہی صورت میں ضرورت ہوتی ہے یا تو اس وقت جبکہ پہلا قانون ناقص ہو اور کسی وقت جا کر لوگوں کی ضروریات کے پورا کرنے سے قاصر ہو جائے یا پھر اس صورت میں کہ پہلا قانون دنیا سے کلی طور پر یا جزوی طور پر مفقود ہو جائے اور اسے دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہو۔سوذلك الكتب کے بعد لاريب فيه فرما کر یہ بتایا کہ یہ کامل کتاب ہمیشہ زمانہ کی دست برد سے محفوظ رہے گی اور کوئی زمانہ ایسا نہ آئے گا کہ اس کے بارہ میں یہ شک کیا جا سکے کہ آیا اس کے الفاظ وہی ہیں جو کسی وقت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے تھے یا ان میں کوئی تغیر تبدل ہو گیا ہے؟ 221