نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 128 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 128

سکتے ہیں تو صرف اسی جذبہ کو اپنے دل میں پیدا کر کے جب تک مسلمان نَعْبُدُ اور نَسْتَعِين اور اھینا کے الفاظ نہیں کہتے۔جب تک ان الفاظ کو سچے طور پر کہنے کے لئے جدو جہد نہیں کرتے اس وقت تک ان کا نہ دین میں ٹھکانا ہوگا نہ دُنیا میں۔حقیقت یہ ہے کہ عبادت بھی اور استعانت بھی اور طلب ہدایت بھی بحیثیت جماعت ہی ہوسکتی ہے کیونکہ اکیلا آدمی صرف ایک محدود عرصہ کے لئے اور ایک محدود دائرہ میں عبادت کو قائم کر سکتا ہے۔ہاں جو اپنی اولاد کو بھی اور اپنے ہمسائیوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے وہ عبادت کا دائرہ وسیع کر دیتا ہے اور اس کا زمانہ ممتد کر دیتا ہے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ سچا عبدو ہی ہے جو اپنے آقا کی مملوکہ اشیاء کو دشمن کے ہاتھ میں نہ پڑنے دے۔جو اپنے آقا کے باغ کو لٹتے دیکھتا اور اس کیلئے جدوجہد نہیں کرتا وہ ہر گز سچابندہ نہیں کہلا سکتا۔إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی آیت میں جبر اور قدر کے متعلق جو غلط خیالات لوگوں میں پھیل رہے ہیں ان کا بھی رد کیا گیا ہے۔انسانی اعمال کے بارہ میں لوگوں میں دو غلط فہمیاں پیدا ہیں۔بعض تو یہ کہتے ہیں کہ جس قدر اعمال انسان سے سرزد ہو رہے ہیں جبر کے ماتحت ہیں یعنی انسان ان کے کرنے پر مجبور ہے۔یہ خیال مذہبی لوگوں میں بھی ہے اور فلسفیوں میں بھی۔اور اب علم النفس کے ماہرین کا ایک گروہ بھی ایک رنگ میں اس کا قائل ہو رہا ہے اور ان کا سردار ڈاکٹر فرائڈ آسٹرین پروفیسر ہے۔جولوگ اس عقیدہ پر غلط مذہبی عقیدہ کی وجہ سے قائم ہیں ان کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالی مالک ہے جس طرح ایک انجینئر جب عمارت بناتا ہے تو کسی اینٹ کو پاخانہ میں اور کسی کو بالا خانہ میں لگاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ مختار ہے کہ جسے چاہے نیک بنائے اور جسے چاہے بدکار بنائے۔سواس نے بعض کو نیک اور بعض کو بدکار بنایا ہے۔مسیحیوں نے ورثہ کا گناہ تسلیم کر کے جبر کے مسئلہ کو رائج کیا ہے۔کیونکہ جب انسان ورثہ کے گناہ سے کفارہ کے بغیر آزاد نہیں ہو سکتا تو جس قدر لوگ کفارہ پر ایمان نہیں لاتے گنہگار ہونے پر مجبور ہیں۔تناسخ کا مسئلہ بھی جبر کی تائید میں ہے۔کیونکہ جو جون سابق گناہ کی سزا میں ملی ہے لازماً ان حد بندیوں کے نیچے رہے گی جو سابقہ گناہ کی وجہ سے 128