نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1154 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1154

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کے اول یعنی سورت فاتحہ کو وَلَا الضَّالین پر ختم کیا۔یہ امر تمام مفسّر با تفاق مانتے ہیں کہ ضالین سے عیسائی مراد ہیں اور آخر جس پر ختم ہواوہ یہ ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ۔سورۃ الناس سے پہلے قُلْ هُوَ اللہ میں خدا تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس طرح پر گویا تثلیث کی تردید کی۔اس کے بعد سورۃ الناس کا بیان کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے۔پس آخری وصیت یہ کی کہ شیطان سے بچتے رہو۔یہ شیطان و ہی نحاش ہے جس کو اس سورت میں خناس کہا ہے۔جس سے بچنے کی ہدایت کی۔اور یہ جو فرمایا کہ رب کی پناہ میں آؤ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسمانی امور نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں۔خدا کی معرفت، معارف اور حقائق پر پکے ہو جاؤ تو اس سے بچ جاؤ گے۔اس آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی آخری جنگ کا خاص ذکر ہے۔شیطان کی لڑائی خدا اور اس کے فرشتوں سے آدم کے ساتھ ہو کر ہوتی ہے۔اور خدا تعالیٰ اس کے بلاک کرنے کو پورے سامان کے ساتھ اترے گا اور خدا کا مسیح اس کا مقابلہ کرے گا۔یہ لفظ شیح ہے جس کے معنے خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی میں۔حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔غرض اس کے لئے مقدر تھا کہ اس آخری جنگ میں خاتم الخلفاء جو چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو ، کامیاب ہو۔الحکم جلد 6 نمبر 25 مورخہ 17 جولائی 1902 صفحہ 6) سورة تبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور ولا الضالين کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی 1154