نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1025 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1025

مخاطب اس امر کو جانتا ہے۔جیسے رجُل کے معنے ہوں گے کوئی آدمی۔اور جب اس پر ال داخل کر دیں اور کہیں الرجل تو اس کے معنے ہوں گے وہ خاص آدمی جس کو متکلم اور مخاطب دونوں جانتے ہیں۔پس آیت إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَ الْفَتْح میں الْفَتْحُ پر ال داخل کر کے یہ کہا گیا ہے کہ یہ فتح جس کے وعدے دیے جا رہے ہیں ایسی ہے کہ جس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اور یہ بات درست ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو یہ نظارے کشف میں دکھا دیتے تھے۔ني الفشخ میں ال کمال کے معنوں میں بھی ہو سکتا ہے اور معنے یہ ہوں گے کہ جب کامل فتح آ جائے گی۔وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا۔یعنی جب اللہ تعالیٰ کی نصرت اور موعود فتح آ جائے گی اور تولوگوں کو اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہوتے دیکھ لے گا۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو آپ نے فوج در فوج لوگوں کو اسلام میں داخل ہوتے کس طرح دیکھا۔اس کے متعلق یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ۔۔۔رؤیت کا لفظ صرف آنکھ سے دیکھنے پر استعمال نہیں ہوتا۔بلکہ یہ دل سے کسی چیز کو پالینے یا اس کا علم حاصل کر لینے پر بھی بولا جاتا ہے۔اور اسی طرح کشفاً کسی چیز کو دیکھنے پر بھی استعمال ہو سکتا ہے۔نیز عربی محاورہ میں یقینی اور قطعی خبر کو بھی دیکھنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْبِ الْفِيلِ (سورة الفيل) یعنی اے محمد رسول اللہ کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اصحاب الفیل کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا۔حالانکہ یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے بھی ایک سال پہلے ہوا تھا تو گویا یہاں پختہ علم کے لئے رایت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔پس رآیت النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی فتوحات آجانے کے بعد جس طرح لوگوں نے جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتا ہے یہ نظارہ اللہ تعالیٰ تجھ کو کشفاً دکھا دے گا۔یا اس کے آثار پیدا کر کے یہ یقین تیرے دل میں پیدا کر دے گا کہ اسلام غالب ہو کر رہے گا۔1025