نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 968 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 968

طرف توجہ دلائی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی علیم کے ظہور کے بعد اب ان سفروں کی کوئی ضرورت نہیں۔تمہیں چاہئے کہ ان سفروں کو چھوڑ کر محمد رسول اللہ صل تعلیم کے زمانہ سے فائدہ اٹھاؤ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اپنا وقت گزارو۔ان معنوں کے رُو سے یہ کفار پر ایک ضرب کاری اور مسلمانوں کی عظیم الشان تعریف ہے۔آخر مومن بھی تو مکہ کے ہی رہنے والے تھے اور ان کی ضروریات بھی ویسی ہی تھیں لیکن وہ تو ایمان لاتے ہی سب کچھ چھوڑ کر تبلیغ حق اور خدمت دین میں لگ گئے اور جب وہ ایسا کر سکتے تھے تو مکہ کے اور لوگ ایسا کیوں نہیں کر سکتے تھے۔ان معنوں سے پھر احمدیوں کے لئے ایک سبق نکلتا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا مکہ والوں پر خدا تعالیٰ کا کوئی زیادہ احسان تھا۔جس طرح ان کو خدا تعالیٰ نے ناک کان اور منہ دیئے تھے اسی طرح ہم کو اس نے ناک کان اور منہ بخشے ہیں۔جس طرح اُن کو قویٰ عطا کئے گئے تھے اسی طرح ہم کو قومی دیئے گئے ہیں۔جو علوم اُن کو دیئے گئے تھے وہی علوم ہم کو دیے گئے ہیں۔جو قرآن اُن کو دیا گیا تھا وہی قرآن ہم کو دیا گیا ہے۔اس میں سے کوئی حصہ کم تو نہیں کر دیا گیا۔اگر مکہ والوں کو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ تم اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر محمدرسول اللہ علیہ کی طرف توجہ کرو اور اپنے تمام اوقات خدمت دین میں صرف کرو تو یہ حکم مکہ والوں کے ساتھ کوئی مخصوص تو نہیں تھا۔جو حالت اُن کی تھی وہی حالت ہماری ہے۔اور جو صداقت ان کے پاس تھی وہی صداقت ہمارے پاس ہے۔جب ہماری جماعت دعوی کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تمام صداقتوں کا احیاء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ فرمایا ہے تو سورۃ ایلاف میں جس صداقت کو پیش کیا گیا ہے لازماً ہمیں اس صداقت کا بھی از سر نو احیاء کرنا پڑے گا۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سورۃ میں تو قریش مخاطب کئے گئے ہیں ہم ایسا کیوں کریں۔اس لئے کہ ہماری جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں محمد رسول اللہ علی ایم کو دوبارہ ظلی رنگ میں مبعوث فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت در حقیقت 968