نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 965 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 965

اگر آرام کرنا ہی بڑا کام ہے تو سب سے زیادہ نما نعوذ باللہ خدا تعالیٰ کو ہونا چاہئے۔مگر ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی کام کرتا ہے، اس کے رسول بھی کام کرتے ہیں، اس کے خلیفے بھی کام کرتے ہیں اور اس کے مومن بندے بھی کام کرتے ہیں۔پھر یہ کیا کہ ایک زمانہ میں انبیاء کی جماعتیں یہ کہنے لگ جاتی ہیں کہ ہمیں اب کام کرنے کی ضرورت نہیں، ہماری ذمہ واریاں کسی اور نے اٹھالی ہیں۔دراصل یہ قومی تنزل کی علامتیں ہیں اور اس وقت بھی مسلمانوں میں عمل کا ترک ان کے اسی قومی تنزل کا ثبوت ہے۔وہ یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بوجھ کوئی اور اٹھالے۔مسیح آجائے اور ان کے گھر مال و دولت سے بھر دے۔خود انہیں کوئی کام نہ کرنا پڑے۔گویا خدا اور اس کے رسول کا بس یہی کام ہے کہ وہ ڈاکوؤں کی طرح دوسروں کا مال لوٹ کر مسلمانوں کے حوالے کر دیں اور ان کی بہو بیٹیاں اغوا کر کے مسلمان نوجوانوں کو دیتے چلے جائیں تا کہ وہ عیاشیاں کریں۔یہ کتنی بڑی بد عملی ہے جو غلط اعتقادات کی وجہ سے بعض مسلمانوں میں پائی جاتی ہے اور کیا ایسی قوم دنیا میں کوئی بھی ترقی کرسکتی ہے؟ حالانکہ جہاں حقیقی محبت ہو وہاں کام زیادہ کیا جاتا ہے اور عام حالات سے زیادہ قربانی پیش کی جاتی ہے۔مشرک لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کے لئے کتنے پاپڑ پیلتے ہیں اور طرح طرح کی تکالیف اٹھا کر انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو جہاں حقیقی محبت ہوتی ہے وہاں انسان کام زیادہ کرتا ہے۔کام کو چھوڑ نہیں دیا کرتا۔یہی بات اللہ تعالى لإيلافِ قُرَيْشٍ - الفِهِمُ رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ۔فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَامَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ۔(قریش (2-5) کی آیت میں بیان فرماتا ہے۔یعنی مکہ کے قریش اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان پر مہربانی کی ، ان کے لئے امن قائم کیا ، ان کی بھوک کو دور کیا اور ان کے لئے ہر قسم کے خطرات کو دنیا سے ہٹا دیا تو ان کو چاہئے تھا کہ وہ رب البیت کی عبادت بھی کرتے۔مگر ایک طرف تو یہ مانتے ہیں کہ خدا نے ان کے خوف کو ڈور کیا، خدا نے ان کی بھوک کو دور کرنے کے سامان مہیا کئے مگر دوسری طرف یہ 965