نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 963 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 963

ہم دیکھتے ہیں کہ اور قو میں تو الگ رہیں آج مسلمان بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔جب اللہ تعالیٰ کسی بڑے آدمی پر اپنا فضل نازل کرتا ہے تو اس کی سنت ہے کہ وہ اس فضل کا سلسلہ اس کی اولاد کے لئے بھی جاری کرتا ہے مگر آہستہ آہستہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ہم خدا کے خاص محبوب ہیں۔اور خدا کے محبوب کے وہ یہ معنے لیتے ہیں کہ جیسے عاشق کہتے ہیں ہمیں مارلو، پیٹ لو، دکھ دے لو ہم تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔اسی طرح وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خود ہم خدا کو گالیاں دے لیں، خواہ ہم بے دینی کریں، خواہ ہم اس پر سو سو اعتراض کریں، خواہ ہم اس کو برا بھلا کہیں، خواہ ہم اس کے کسی حکم کو نہ مانیں، اللہ تعالیٰ ہمارا عاشق ہے وہ ہمیں چھوڑ نہیں سکتا۔چنانچہ مختلف شکلوں اور صورتوں میں لوگوں نے یہ عقیدہ قائم کیا ہوا ہے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی ایک بہن تھیں جو کسی پیر کی مرید تھیں۔وہ ایک دفعہ آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے اس سے کہا بہن تمہیں نماز کی طرف توجہ نہیں تم آخر خدا کو کیا جواب دو گی؟ اس نے کہا میں نے جس پیر کی بیعت کی ہوئی ہے اس نے مجھے کہہ دیا ہے کہ چونکہ تم نے میری بیعت کرلی ہے اس لئے اب تمہیں سب کچھ معاف ہے۔آپ نے اپنی بہن سے کہا۔بہن اپنے پیر صاحب سے پوچھنا کہ خدا کا حکم کس طرح معاف ہو گیا۔نما ز کا حکم تو خدا نے دیا ہے اور وہ قیامت کے دن اس کا حساب لے گا۔آپ کی بیعت کرنے سے یہ حکم کس طرح معاف ہو گیا ؟ اس نے کہا بہت اچھا جب میں جاؤں گی تو یہ بات ان سے ضرور دریافت کروں گی۔کچھ مدت کے بعد وہ پھر آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ کہ تم نے اپنے پیر صاحب سے وہ بات دریافت کی تھی؟ اس نے کہا ہاں۔میں اپنے پیر صاحب کے پاس گئی تھی اور ان سے میں نے یہ بات دریافت کی تو وہ کہنے لگے تو نوردین سے ملنے گئی تھی؟ معلوم ہوتا ہے یہ شرارت تجھے نور دین نے ہی سکھائی ہے۔میں نے کہا کسی نے سکھائی ہو، آپ یہ بتائیں کہ اس کا جواب کیا ہے؟ انہوں نے کہا قیامت کے دن جس وقت خدا تم سے پوچھے گا کہ تم نمازیں کیوں نہیں پڑھا کرتی تھیں تو تم کہہ دینا کہ میرا 963