نُورِ ہدایت — Page 942
کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتے۔اتنی بڑی مصیبت دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے اس جگہ کو نہیں چھوڑا۔وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر وہاں نہیں آئے تھے۔وہ کسی نشان کو دیکھ کر وہاں نہیں آئے تھے، وہ کسی تازہ تعلیم پر ایمان لا کر وہاں نہیں آئے تھے۔دوہزار سال پہلے ان کے دادا ابراہیم نے ایک بات کہی تھی اور وہ اپنے دادا کے وعدہ کے مطابق اس سرزمین میں آبسے۔ان پر فاقے آئے مگر انہوں نے اس جگہ کو نہ چھوڑا۔انہوں نے سالہا سال غربت اور تنگی اور افلاس میں اپنی زندگی کے دن بسر کئے۔ان کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ان کے پاس گزارہ کا کوئی سامان نہیں تھا۔مگر انہوں نے کہا ہم اس مقام کو اب نہیں چھوڑ سکتے۔ہم مٹ جائیں گے ہم ایک ایک کر کے فنا ہو جائیں گے۔مگر ہم مکہ کو چھوڑ کر کہیں باہر نہیں جائیں گے۔یہ اتنی عظیم الشان قربانی ہے کہ یقینا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔بہر حال اسی طرح مکہ میں ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ہاشم بن عبد مناف جو رسول کریم ملایم کے پڑدادا تھے ان کا وقت آگیا۔جب انہوں نے یہ حال دیکھا تو سمجھا کہ اس طرح تو قوم فنا ہو جائے گی۔انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ان میں تقریر کی کہ جو طریق تم نے ایجاد کیا ہے یہ اپنی ذات میں جہور کے لحاظ سے تو بڑا اچھا ہے مگر اس طرح وہ کام پورا نہیں ہو گا جس کے لئے تم لوگ مکہ میں آئے ہو۔اگر یہی طریق جاری رہا اور تم میں سے اکثر مر گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مکہ خالی ہو جائے گا۔بے شک جوش وخروش اور عزم کی پختگی کے لحاظ سے یہ کام ایسا شاندار ہے کہ اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔مگر عقل کے لحاظ سے یہ اچھا نہیں۔کوئی ایسی تدبیر ہونی چاہئے کہ ہم سب لوگ مکہ میں بھی رہیں اور اس قسم کی موت بھی ہم میں واقعہ نہ ہو۔غالباً ان کے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہوگا کہ اس طریق کو جاری رہنے دیا گیا تو دوسری قوموں پر اس کا برا اثر پڑے گا اور وہ کہیں گی یہ لوگ خدا کے لئے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے مگر بھوکے مر گئے۔پس اس طرح خدا کا احترام کم ہو جائے گا اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ خدا تعالیٰ کی خاطر قربانی کرنے کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔ہمیں اپنے آپ کو اس طرح رکھنا چاہئے کہ ہمارا عزاز 942