نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 939 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 939

بیوی بچوں سمیت وہیں بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے مگر مکہ کو نہ چھوڑتے تھے اور نہ دوسرے لوگوں سے سوال کرتے۔اس سے ایک طرف تو ان کے اس جوش کا پتہ لگتا ہے جو اُن کے دلوں میں خانہ کعبہ کی خدمت کے متعلق تھا اور دوسری طرف ان کی قناعت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ وہ لوگوں پر بار نہیں بنتے تھے۔کسی سے کچھ مانگتے نہیں تھے۔الگ تھلگ ایک خیمہ میں پڑے رہتے اور وہیں سب کے سب مرجاتے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت جو اس امر کی مدعی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نازل کی ہوئی تعلیم پر ایمان رکھتی اور اس کے نور کی حامل ہے اس کے افراد کو بھی اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد اور آپ کے خاص اتباع کی اولاد کو میں اُن کے اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں دیکھتا ہوں کہ دین کے لئے قربانی اور ایثار کا وہ مادہ ابھی تک ان میں پیدا نہیں ہوا جو احمدیت میں داخل ہونے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے کے بعد ان میں پایا جانا چاہئے تھا۔ان کا قدم نہایت سست ہے اور ان کے اندر قربانی اور ایثار کا مادہ ابھی بہت کم ہے۔یقیناً اس معیار کے ساتھ ہم کبھی بھی دنیا پر غالب نہیں آسکتے۔جب تک ہم میں سے ہر شخص یہ نہیں سمجھ لیتا کہ وہ غرض جس کے لئے وہ اس سلسلہ میں شامل ہوا ہے اور وہ مقصد جس کے لئے اس نے بیعت کی ہے وہ دوسری تمام اغراض اور دوسرے تمام مقاصد پر مقدم ہے اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے اپنے ایمان کا کوئی اچھا نمونہ دکھایا ہے۔بلکہ میرے نزدیک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کے لئے تو ایسے کام کرنا جن سے دین کی خدمت میں روک پیدا ہو قطعی طور پر ناجائز ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ویسا ہی دنیا دار شخص ہے جیسے کوئی اور۔لیکن دوسروں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے اندر یہ مادہ ہونا چاہئے کہ جب دین کی طرف سے انہیں آواز آئے وہ اپنے تمام کام کاج چھوڑ کر فوراً چلے آئیں اور اپنے آپ کو دینی خدمات میں مشغول کردیں۔اب اگر وہ دنیا کا کام کرتے ہیں تو اس لئے کہ ابھی دین کو ان کی ضرورت پیش نہیں 939