نُورِ ہدایت — Page 937
توجہ حج کی طرف اتنی نہیں تھی کہ وہ مکہ میں کثرت سے آتے جاتے اور خانہ کعبہ کی برکات سے مستفیض ہوتے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ قوم جو اپنے دادا کی ہدایت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بڑی بڑی پیشگوئیوں کے باوجود خانہ کعبہ کو چھوڑ کر چلی گئی۔اگر حاجی کثرت سے مکہ میں آتے ہوتے تو ان لوگوں کے رزق کے سامان پیدا ہوتے رہتے اور ان کو مکہ چھوڑنے کی مجبوری پیش نہ آتی۔پس آلِ اسمعیل کا مکہ کو چھوڑ کر دوسرے عرب علاقوں میں پھیل جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ اس وقت تک خانہ کعبہ کے حج کا رواج عرب میں کم تھا اور بہت تھوڑے لوگ حج کے لئے آتے تھے۔۔۔۔پس اگر بنو اسمعیل نے مکہ چھوڑا تو یقیناً اس کے معنے یہ تھے کہ اس زمانہ میں بہت ہی کم لوگ حج کیا کرتے تھے اور ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہیں تھی۔اس لئے یہ لوگ مکہ سے نکلے اور تمام عرب میں پھیل گئے۔جب قصی بن کلاب کی تحریک پر یہ لوگ مکہ میں جابسے تو یہی دقت ان کو پیش آئی۔وہ بس تو گئے مگر چونکہ حاجی بہت کم آتے تھے اور یہ لوگ وہیں رہتے تھے باہر کہیں آتے جاتے نہیں تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سخت تنگی اور محسر کی حالت میں مبتلا ہو گئے اور ان کے گزارہ کی کوئی صورت نہ رہی بلکہ بعض لوگوں کی تو فاقہ تک نوبت پہنچ گئی اور ان کے لئے اپنی عزت اور زندگی کا قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔مگر پھر بھی قریش کو داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے ان تمام صعوبتوں کو بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا اور اپنی زبان پر وہ ایک لمحہ کے لئے بھی حرف شکایت نہ لائے۔اوّل تو ان کی یہی بہت بڑی قربانی تھی کہ انہوں نے اپنے کام کاج چھوڑے، پیشوں کو ترک کیا، تجارتوں کو نظر انداز کیا، زمینداریوں سے منہ موڑا اور ایک وادی غیر ذی زرع میں جہاں روزی کا کوئی سامان نہ تھا، اہل وعیال کو لے کر رہنا شروع کر دیا۔مگر پھر بھی کوئی کہہ سکتا تھا کہ قریش کا مکہ میں بسنا کوئی ایسی قربانی نہیں جس کی تعریف کی جا سکے کیونکہ مکہ کی عزت لوگوں میں بہت پھیلی ہوئی تھی اور لوگ وہاں حج کے لئے آتے جاتے تھے۔اس لئے ممکن ہے وہ دولت یا عزت کی خواہش کی وجہ سے مگہ 937