نُورِ ہدایت — Page 921
ہے۔یعنی غیر معمولی حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیدا کر دئیے گئے۔جن حالات کو انسانی عقل سمجھ ہی نہیں سکتی تھی۔مگر مفسرین کا بڑا زور اس امر پر ہوتا ہے کہ ان کے سر پر پتھر پڑے اور پاخانہ کی جگہ سے نکل گئے۔یا یہ کہ ان میں سے کوئی ایک بھی بیچ کر واپس نہ جا سکا۔حالانکہ قرآن اس پر زور ہی نہیں دے رہا۔قرآن تو کہتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ کیا تم نے دیکھا اور غور کیا کہ تمہارے رب نے کیسے غیر معمولی حالات میں اصحاب الفیل کو تباہ کیا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ ان میں بڑی موت واقعہ ہوئی۔بڑی موت تو بعض دفعہ جہاز کے ڈوبنے سے بھی ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ جس امر پر زور دینا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تم میرا ہاتھ دیکھو اور اس امر پر غور کرو کہ جو کچھ کیا تھا میں نے کیا تھا۔کسی انسانی ہاتھ کا اس میں دخل نہیں تھا۔پس حقیقت اور واقعات پر زور دینا اس جگہ مطلوب نہیں بلکہ اس کے نادر اور مخفی الاسباب ہونے پر زور دینا مقصود ہے۔یہ سوال نہیں کہ ابرہہ اور اس کا لشکر سب کا سب مر گئے یا کچھ بیچ بھی گئے۔بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح مرے۔جو بھی مرے ان کے مرنے میں کسی انسانی تدبیر کا دخل نہیں تھا بلکہ محض ہمارے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں وہ بلاک ہوا۔پس یہاں خدا اپنے فعل کو پیش کر رہا ہے۔وہ یہ نہیں بتا تا کہ ابرہہ پر کیسی تباہی آئی۔بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اس پر کیسے تباہی آئی۔وہ یہ کہتا ہے کہ ہم نے ابرہہ کو ان حالات میں مارا جبکہ دنیا اس کے مارے جانے کا خیال بھی نہ کر سکتی تھی۔پس خدا تعالیٰ اس جگہ اپنے فعل پر زور دے رہا ہے اور اس پر زور دے رہا ہے کہ اس نے یہ فعل محض محمد رسول اللہ علیم کی خاطر کیا۔پس اس صورت میں محمد رسول اللہ علیم کے احترام کا اور محمد رسول اللہ علیم کی خاطر اپنی قدرت دکھانے کا اور محمد رسول اللہ عالم کی ذات کو دشمن کے حملہ سے بچانے کا خصوصیت سے ذکر کیا گیا ہے۔خانہ کعبہ کی حفاظت یا اس کا بچنا ایک ضمنی چیز ہے۔خانہ کعبہ کی حفاظت اصل مقصود نہیں تھی بلکہ اصل مقصود محمد رسول الله علی شمیم کی حفاظت تھی۔چنانچہ فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ تو نے دیکھا تیرے رب نے کس طرح معاملہ 921