نُورِ ہدایت — Page 919
منسوب نہیں ہو سکتے جن میں شک وشبہ پایا جاتا ہو۔پس اس آیت کے وہی معنے مراد لینے ہوں گے جو یقین اور قطعیت پر دلالت کرتے ہیں۔پس آلغر تر کے لفظی معنے گو یہی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں۔مگر در حقیقت اس کا مفہوم اس جگہ یہ ہے کہ تم خوب اچھی طرح سے جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہو اور تم سے یہ حقیقت مخفی نہیں ہے۔الم تر کے متعلق ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کی مخاطب تو ساری دنیا ہے۔آیا الخمر تر میں بھی ساری دنیا مخاطب ہے یا محمد رسول الله علیم مخاطب ہیں یا دشمنانِ اسلام مخاطب ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یوں تو قرآن کریم ساری دنیا کے لئے ہے خواہ بعض آیات میں براه راست محمد رسول اللہ العلیم ہی کیوں نہ مخاطب ہوں۔مگر اس سورۃ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں خطاب براہ راست محمد رسول اللہ علیم کی ذات سے ہے اور پھر آپ کے توسط سے باقی دنیا مخاطب ہے۔چنانچہ آگے ہی فرماتا ہے۔كَيْفَ فَعَل ربك تیرے رب نے کس طرح کیا۔یوں تو خدا تعالیٰ سب کا رب ہے مگر جب ایک ایسے واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے جو عرب اور خصوصا رسول کریم لامی کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے تو ربک کے الفاظ سے یہی سمجھا جائے گا کہ اس میں خطاب خصوصیت سے رسول کریم علیم کی ذات اقدس سے ہی کیا گیا ہے۔غرض اس آیت میں ت اور ک یہ دوضمائر خطاب کی ہیں۔پس تر اور رتبہ یہ دو الفاظ جو اس جگہ آئے ہیں بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کا تعلق خصوصیت سے رسول کریم معلم کے ساتھ ہے اور اس سورۃ میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس کا اصل اور اہم تعلق محمد رسول اللہ علیم سے ہی ہے۔اگر محمد رسول اللہ علی ایم کی ذات سے اس کا خاص تعلق نہ ہوتا تو ربك کہنے کی کیا ضرورت تھی۔جب خدا نے کہا کہ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ - تیرے خدا نے اس سے کس طرح کا سلوک کیا۔تو اس کے معنے در حقیقت یہی ہیں کہ ہم نے اس وقت جو کچھ کیا تھا محض تیرے لئے کیا 919