نُورِ ہدایت — Page 918
رسول کریم علیم کی پیدائش سے پہلے کا ہے۔کتنا پہلے کا ہے؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔۔۔۔صحیح روایت جس کے قرائن بعض دوسری تاریخوں سے بھی ملتے ہیں یہ ہے کہ در حقیقت یہ اسی سال کا واقعہ ہے جس سال میں رسول کریم عالم پیدا ہوئے تھے۔جو تاریخی شہادتیں کثرت سے مل جاتی ہیں اور جن کے قرائن دوسری تاریخوں یا دوسرے ملکوں کی تاریخوں سے بھی ملتے ہیں وہ اسی کی تائید کرتی ہیں۔یہ واقعہ محرم میں ہوا تھا جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور رسول کریم علیم کی پیدائش اسی سال ربیع الاول میں ہوئی ہے۔پس جبکہ رسول کریم علیم کی پیدائش سے یہ واقعہ پہلے ہوا ہے خواہ تیس دن پہلے ہوا ہو خواہ تیس سال بہر حال رسول کریم یا لیلی نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا۔اس لئے ترسے رؤیت قلبی ہی مراد لی جائے گی۔رؤیت عینی نہیں۔پس آلخ تر کے لفظی معنے یہ ہوئے کہ کیا تجھے معلوم نہیں۔اس فقرہ کے عام طور پر دو معنے ہو سکتے ہیں۔اوّل یہ کہ ہم دوسرے شخص سے پوچھتے ہیں کہ آیا فلاں بات اسے معلوم ہے یا نہیں؟ دوسرے معنے اس قسم کے فقرہ کے یہ ہوتے ہیں کہ تمہیں یہ بات خوب معلوم ہے۔گویا بظاہر نفی کے الفاظ ہوتے ہیں مگر معنے مثبت ہی کے ہیں بلکہ مثبت پر زور دینے کے ہوتے ہیں۔اردو میں بھی کہتے ہیں تمہیں معلوم نہیں میں ایسا کرسکتا ہوں۔اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں۔گویا اس قسم کا فقرہ بجائے اس کے کہ شک کا اظہار کرے یقین اور وثوق پر دلالت کرتا ہے۔اگر ایسا فقرہ کہنے والا کوئی انسان ہو تو کسی کو شبہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیا اس نے شک کے معنوں میں استعمال کیا ہے یا وثوق کے معنوں میں۔لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق ہم یہ نہیں خیال کر سکتے کہ نعوذ باللہ اس کے قول کا یہ مطلب ہے کہ مجھے تو معلوم نہیں کہ تم کو فلاں واقعہ کا علم ہے یا نہیں۔تم ہی بتاؤ کہ تمہیں اس کا علم ہے یا نہیں۔پس یہ فقرہ شک کے معنوں میں خدا تعالیٰ کے متعلق استعمال ہی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں تو اس کی طرف وہ معنے کبھی 918