نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 897 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 897

بھی نہیں آتی تھی۔مگر آخر ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا۔کیا اس مثال کو دیکھتے ہوئے اب بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صل العالم جن کے پاس کوئی مال نہیں، کوئی دولت نہیں، کوئی جتھہ نہیں، کوئی طاقت نہیں وہ کس طرح جیت جائیں گے اور مکہ والے جو طاقتور اور جتھہ والے ہیں ان کے مقابلہ میں کس طرح ہار جائیں گے۔تم اصحاب الفیل کے واقعہ کو مدنظر رکھو اور یہ سمجھ لو کہ جس طرح وہاں ہوا اسی طرح اللہ تعالیٰ اس موقعہ پر بھی اپنی قدرت کا زبردست نشان دکھائے گا اور تمہیں محمد رسول اللہ صل تعلیم کے مقابلہ میں مغلوب کر دے گا۔دوسرا تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ اس میں دلیل بالاولیٰ کے طور پر اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ خانہ کعبہ مقصود بالذات نہیں تھا بلکہ خانہ کعبہ ایک علامت تھی آنے والے کی۔ایک عظیم الشان انسان نے دعائے ابراہیمی کے ماتحت دنیا کی ہدایت کے لئے آنا تھا اور اس کے لئے ایک مرکز کی ضرورت تھی۔اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو مقدس قرار دیا اور اسے لوگوں کا مرجع بنا دیا۔مگر بہر حال یہ مقصود نہیں تھا۔مقصود وہی تھا جس نے دعائے ابراہیمی کے ماتحت ظاہر ہونا تھا اور جس کا کام یہ بتایا گیا تھا کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ آيَاتِهِ وَيُزَليهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ۔وہ خدا کی آیتیں انہیں پڑھ پڑھ کر سنائے گا۔ان کے دلوں کو پاک کرے گا۔انہیں احکام الہیہ کی حکمتیں سکھائے گا۔انہیں خدا تعالی کی شریعت کے اسرار سمجھائے گا۔اور ان میں پاکیزگی اور طہارت پیدا کرے گا۔یہ انسان اصل مقصود تھا۔مکان اصل مقصود نہیں تھا۔مکان تو صرف ایک علامت تھی۔اصل اہمیت رکھنے والی وہ چیز تھی جو اس کے پیچھے تھی۔ا خانہ کعبہ کو اگر عزت حاصل تھی تو اس لئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کی بنیادیں اٹھائیں تا موعود گل ادیان ظاہر ہو کر اس سے تعلق پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے لئے ایک مقام اتحاد اور اقوام عالم کے لئے مرجع بنا دیا۔اسی نقطہ نگاہ کے ماتحت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہ تو دیکھو کہ محمد رسول اللہ علیم کا دعوی کیا ہے۔محمد رسول اللہ علیم کا 897