نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 883 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 883

لطیفہ مشہور ہے کہ شیخ چلی درخت پر چڑھا تو اسی شاخ کو کاٹنے لگ گیا جس پر وہ بیٹھا ہوا تھا۔نیچے سے کوئی شخص گزرا تو اس نے شیخ چلی سے کہا کہ میاں تم یہ کیا کر رہے ہو کہ اسی شاخ کو کاٹ رہے ہو جس پر خود بیٹھے ہو تم تو گر جاؤ گے۔شیخ چلی نے کہا تو کوئی عالم الغیب ہے۔تجھے کس طرح پتہ لگا کہ میں گر جاؤں گا۔جاؤ میں تمہاری بات نہیں مانتا۔وہ چلا تو تھوڑی دیر کے بعد ہی شاخ کے کٹتے ہی شیخ چلی بھی نیچے آ گرا۔یہ دیکھ کر وہ اس شخص کے پیچھے بھاگا اور کہنے لگا معلوم ہوتا ہے تو ولی ہے۔کیونکہ جو بات تو نے کہی تھی وہ بالکل سچی نکلی اور میں گر پڑا۔اس نے کہا میں ولی نہیں۔میں نے ایک طبعی نتیجہ نکالا تھا کہ چونکہ تم اسی شاخ کو کاٹ رہے ہو جس پر خود بیٹھے ہو اس لئے تمہارا گرنا یقینی ہے۔تو ہر فعل کا ایک طبعی نتیجہ ہوتا ہے جو بہر حال نکلتا ہے اور عقلمند انسان سمجھتا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا کیا اثر ہو گا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری عقلیں تو اتنی ماری ہوئی ہیں کہ تم ذرا بھی غور سے کام نہیں لیتے۔اگر تم علمی طور پر ہی غور کرتے تو تمہیں یقین آجاتا کہ تم مر رہے ہو اور بلاکت کے سامان تمہارے لیے چاروں طرف سے جمع ہیں۔قومی ہلاکت کے ایک خدائی سامان ہوتے ہیں اور ایک دنیوی سامان ہوتے ہیں۔خدائی سامان تو یہ ہوتے ہیں کہ مثلاً اللہ تعالیٰ کو نہ مانا، اس کے نبیوں کو نہ مانا، اس کے احکام کی خلاف ورزی کی۔اور دنیوی سامان یہ ہوتے ہیں کہ قوم میں ظلم پایا جائے۔غرباء ومساکین کی طرف اسے کوئی توجہ نہ ہو۔عیاشی میں اس کے دن رات بسر ہونے لگیں۔یہ دونوں سامان تمہارے لیے جمع ہیں۔تم نے خدا تعالیٰ کو بھی ناراض کر لیا ہے اور بنی نوع انسان سے بھی تمہارا سلوک سخت ناقص ہے اور جب حالت یہ ہے تو تم کیونکر سمجھتے ہو کہ تم موت سے بچ سکو گے۔پس فرماتا ہے كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ۔لَتَرَوُنَ الْجَحِيمَ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو نہ مانو۔جو کچھ میں کہتا ہوں اسے جھوٹ کہ دو مگر کیا تم نے علمی رنگ میں بھی کبھی اپنے حالات پر غور نہیں کیا۔کاش تمہیں علم الیقین ہی ہوتا تو تم سمجھتے کہ جس قوم میں تعلیم نہ ہو، جس قوم میں صدقہ و خیرات کی عادت نہ ہو، جس قوم میں انصاف نہ ہو، جس قوم میں انتظام نہ ہو، جس قوم 883