نُورِ ہدایت — Page 879
کرے گا کہ دوسروں کو بھی قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا دے اور اگر کوئی شخص قرآن کریم کے معارف سے آگاہ ہو گیا ہے تو وہ کوشش کرے گا کہ میں دوسروں کو بھی قرآن کریم کے معارف سے آگاہ کر دوں۔غرض استباق کی روح اگر کسی قوم میں پیدا ہو جائے تو وہ آن کی آن میں کہیں کی کہیں جا پہنچتی ہے۔اسی طرح فرماتا ہے وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ (فاطر 33) مومنوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نیکیوں میں دوسروں سے آگے نکل جاتے ہیں۔پھر فرماتا ہے فالسَّابِقاتِ سَبُقًا (النازعات (5) مومنوں کی یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے نیکیوں میں مقابلہ کرتے ہوئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔در حقیقت یہ علامت ان اقوام کی ہے جو اپنے اندر زندگی کی روح رکھتی ہیں۔وہ ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ دوسروں سے آگے نکل جائیں اور نیکی کے میدان میں کسی کو سبقت نہ لے جانے دیں۔اسی طرح فرماتا ہے سَارِعُوا إلى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ (ال عمران (134) اے لوگو تم اپنے رب کی مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے جلد پہنچنے کی کوشش کرو۔یعنی تیزی کے ساتھ اپنے قدم بڑھاؤ اور خدا تعالیٰ کی مغفرت کو جلد سے جلد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔یہ امر ظاہر ہے کہ جولوگ خدا تعالیٰ کی مغفرت کی طرف سرعت سے اپنے قدم بڑھائیں گے ان میں سے کوئی آگے نکل جائے گا اور کوئی پیچھے رہ جائے گا۔کسی شخص کو اس بات پر فخر ہوگا کہ میں نے دوڑ کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا مقام حاصل کر لیا اور کوئی حسرت و افسوس کے ساتھ آہ بھرے گا کہ میں نے وقت ضائع کر دیا اور خدا تعالیٰ کی مغفرت کو اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے حاصل نہ کر سکا۔بہر حال یہ آیات بتاتی ہیں کہ بعض قسم کے تفاخر اسلام میں ممنوع نہیں۔وہ تکاثر جو انسان کو بنی نوع انسان کی خدمت میں مشغول کر دے، جس تکاثر کے نتیجہ میں انسان کی روحانیت اور اس کا تقویٰ بڑھ جائے ، جس تفاخر کے نتیجہ میں قوم کا معیار بلند ہو جائے وہ بُرا نہیں بلکہ اچھا ہے۔اور ہر سمجھدار انسان کا فرض ہے کہ وہ اس تکاثر میں حصہ لے کیونکہ بغیر اس کے کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی۔879