نُورِ ہدایت — Page 866
آسمانی انوار اس کے دل پر بکلی احاطہ کر کے ہر یک ظلمت و قبض و تنگی کو درمیان سے اٹھا دیں یہاں تک کہ بوجہ کمال رابطه عشق و محبت و باعث انتہائی جوش صدق وصفا کی بلا اور مصیبت بھی محسوس اللہ ت و مدرک الحلاوت ہو تو اس درجہ کا نام اطمینان ہے۔جس کو دوسرے لفظوں میں حق الیقین اور فلاح اور نجات سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔مگر یہ سب مراتب ایمانی مرتبہ کے بعد ملتے ہیں اور اس پر مترتب ہوتے ہیں۔جوشخص اپنے ایمان میں قوی ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ان سب مراتب کو پالیتا ہے۔لیکن جو شخص ایمانی طریق کو اختیار نہیں کرتا اور ہر یک صداقت کے قبول کرنے سے اول قطعی اور یقینی اور نہایت واشگاف ثبوت مانگتا ہے اس کی طبیعت کو اس راہ سے کچھ مناسبت نہیں اور وہ اس لائق ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اس قادر غنی بے نیاز کے فیوض حاصل کرے۔سرمه چشم آریه ، روحانی خزائن جلد 2 صفحہ 73 79) وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں جو ایک ہی دن میں حق الیقین کے درجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔یا درکھو کہ ایک ظن ہوتا ہے اور ایک یقین۔ظن صرف خیالی بات ہوتی ہے۔اس کی صحت اور سچائی پر کوئی حکم نہیں ہوتا بلکہ اس میں احتمال کذب کا ہوتا ہے۔لیکن یقین میں ایک سچائی کی روشنی ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ یقین کے بھی مدارج ہیں۔ایک علم الیقین ہوتا ہے۔پھر عین الیقین اور تیسرا حق الیقین۔جیسے ڈور سے کوئی آدمی دھواں دیکھتا ہے تو وہ آگ کا یقین کرتا ہے اور یہ علم الیقین ہے۔اور جب جا کر دیکھتا ہے تو وہ عین الیقین ہے۔اور جب ہاتھ ڈال کر دیکھتا یہ ہے کہ وہ جلاتی ہے تو وہ حق الیقین ہے۔الحکم جلد 6 نمبر 24 مورخہ 10/ دسمبر 1902، صفحہ 2) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ضرورتیں تو بے شک انسان کو بہت لگی ہوئی ہیں۔خواہ کتنے ہی امور کیوں نہ ہوں اور خواہ کیسی ہی حاجتیں کیوں نہ ہوں۔ان تمام کاموں میں انسان تکالر کو چاہتا ہے۔اکثر اوقات 866