نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 865 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 865

جاننا چاہئے کہ قرآن شریف نے علم تین قسم پر قرار دیا ہے۔(1) علم الیقین، (2) عین الیقین، (3) حق الیقین۔۔۔۔علم الیقین وہ ہے کہ شئے مقصود کا کسی واسطہ کے ذریعہ سے ، نہ بلاواسطہ پتہ لگایا جاوے۔جیسا کہ ہم دھوئیں سے آگ کے وجود پر استدلال کرتے ہیں پر آگ کو دیکھا نہیں مگر دھوئیں کو دیکھا ہے کہ جس سے ہمیں آگ کے وجود پر یقین آیا۔سو یہ علم الیقین ہے۔اور اگر ہم نے آگ کو ہی دیکھ لیا ہے تو یہ بموجب بیان قرآن شریف یعنی سورہ الهَكُمُ التَّكَاثُرُ کے علم کے مراتب میں سے عین الیقین کے نام سے موسوم ہے۔اور اگر ہم اس آگ میں داخل بھی ہو گئے ہیں تو اس علم کے مرتبہ کا نام قرآن شریف کے بیان کی رُو سے حق الیقین ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 431) ایمان اس اقرار لسانی و تصدیق قلبی سے مراد ہے جو تبلیغ و پیغام کسی نبی کی نسبت محض تقویٰ اور دور اندیشی کے لحاظ سے صرف نیک ظئی کی بنیاد پر یعنی بعض وجوہ کو معتبر سمجھ کر اور اس طرف غلبہ اور رجحان پا کر بغیر انتظار کامل اور قطعی اور واشگاف ثبوت کے دلی انشراح سے قبولیت و تسلیم ظاہر کی جائے۔لیکن جب ایک خبر کی صحت پر وجوہ کاملہ قیاسیہ اور دلائل کافیہ عقلیہ مل جائیں تو اس بات کا نام ایقان ہے جس کو دوسرے لفظوں میں علم الیقین بھی کہتے ہیں۔اور جب خدائے تعالیٰ خود اپنے خاص جذبہ اور موہبت سے خارق عادت کے طور پر انوار طور پر ہدایت کھولے اور اپنے آلاء ونعماء سے آشنا کرے اور کد ٹی اور علم عطا فرمادے اور ساتھ اس کے ابواب کشف اور الہام بھی منکشف کر کے عجائبات الوہیت کا سیر کرا دے اور اپنے محبوبانہ حسن و جمال پر اطلاع بخشے تو اس مرتبہ کا نام عرفان ہے۔جس کو دوسرے لفظوں میں عین الیقین اور ہدایت اور بصیرت کے نام سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔اور جب ان تمام مراتب کی شدت اثر سے عارف کے دل میں ایک ایسی کیفیت حالی عشق اور محبت کے باز نہ تعالیٰ پیدا ہو جائے کہ تمام وجود عارف کا اس کی لذت سے بھر جائے اور 865