نُورِ ہدایت — Page 864
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: دنیا کی کثرت حرص و ہوا نے تمہیں آخرت کی تلاش سے روک رکھا یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پڑے۔دنیا سے دل مت لگاؤ تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ عنقریب تم جان لو گے کہ دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں۔اگر تمہیں یقینی علم حاصل ہو تو تم دوزخ کو اسی دنیا میں دیکھ لو گے۔پھر برزخ کے عالم میں یقین کی آنکھوں کے ساتھ دیکھو گے۔پھر عالم حشر اجساد میں پورے مواخذہ میں آجاؤ گے اور وہ عذاب تم پر کامل طور پر وارد ہو جائے گا اور صرف قال سے نہیں بلکہ حال سے تمہیں دوزخ کا علم حاصل ہو جائے گا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ اسی جہان میں بدکاروں کے لئے جہنمی زندگی پوشیدہ طور پر ہوتی ہے اور اگر غور کریں تو اپنی دوزخ کو اسی دنیا میں دیکھ لیں گے۔اور اس جگہ اللہ تعالیٰ نے علم کو تین درجوں پر منقسم کیا ہے۔یعنی علم الیقین ، عین الیقین حق الیقین۔اور عام کے سمجھنے کیلئے ان تینوں علموں کی یہ مثالیں ہیں کہ اگر مثلاً ایک شخص دُور سے کسی جگہ بہت سادھو آں دیکھے اور دھوئیں سے ذہن منتقل ہو کر آگ کی طرف چلا جائے اور آگ کے وجود کو یقین کرے اور اس خیال سے کہ دھوئیں اور آگ میں ایک تعلق لا ینفک اور ملازمت تامہ ہے۔جہاں دھواں ہو گا ضرور ہے کہ آگ بھی ہو۔پس اس علم کا نام علم الیقین ہے۔اور پھر جب آگ کے شعلے دیکھ لے تو اس کا نام عین الیقین ہے۔اور جب اس آگ میں آپ ہی داخل ہوجائے تو اس علم کا نام حق الیقین ہے۔اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہنم کے وجود کا علم الیقین تو اسی دنیا میں ہو سکتا ہے۔پھر عالم برزخ میں عین الیقین حاصل ہوگا اور عائم حشر اجساد میں وہی علم حق الیقین کے کامل مرتبہ تک پہنچے گا۔( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 402) 864