نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 839 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 839

کے رہنے والے ہیں۔اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انسانوں کے دل اور ان کے باطنی قومی مراد ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ ایک جگہ فرماتا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ الله يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحدید 18 )۔اور جیسا کہ فرماتا ہے الْبَلدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُكَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا (الاعراف 59)۔ایسا ہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آجاتے ہیں اور نیک اور بدلوگ اپنی سزا جزا پالیتے ہیں۔سواگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں سے قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے۔خدائے تعالی کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی رُوپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہو سکتا ہے جن کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسا زمانہ آجائے گا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کا پرواز ممکن ہے اس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتدا سے ظاہر کرنا مقدر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پورا ہو کر ایک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالْإِكْرَامِ۔(الرحمن:27-28) (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 161 تا169) اس وقت زمین پر سخت زلزلہ آئے گا اور زمین اپنے تمام خزائن اور دفائن باہر نکال دے گی۔یعنی علوم ارضیہ کی خوب ترقی ہوگی مگر آسمانی علوم کی نہیں۔(ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحه 469) وہ آیات جن میں اول ارضی تاریکی زور کے ساتھ پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور پھر آسمانی روشنی کے نازل ہونے کی علامتیں بتلائی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔یہ سورت إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ 839