نُورِ ہدایت — Page 833
خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کو روک نہ سکا۔ان مثالوں کے بعد اب ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال کس طرح آ سکتا ہے کہ ہم نے اگر جبر و تشدد سے کام لیا تو ہم کامیاب ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کا دین بہر حال پھیل کر رہے گا۔اسلام دنیا پر غالب آئے گا اور کسی قسم کی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکے گی۔اليس الله يا حكم الحكمين کیا ( اب بھی کوئی خیال کر سکتا ہے کہ ) اللہ سب حاکموں سے بڑا حا کم نہیں فرماتا ہے کیا ان سارے دلائل اور نصیحتوں کو سن کر بھی ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کوئی نہیں۔جس بات کا وہ فیصلہ کر دے اس کو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی روک نہیں سکتی۔اس نے فیصلہ کیا کہ آدم کامیاب ہوسو وہ کامیاب ہو گیا۔اس نے فیصلہ کیا کہ نوح کو اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل ہوسواسے غلبہ حاصل ہو گیا۔اس نے فیصلہ کیا کہ موسیٰ کو ترقی حاصل ہوسواسے ترقی حاصل ہوگئی۔اب اس نے فیصلہ کیا ہے کہ محمد رسول الله علی ایم کو ترقی دے سوا سے ترقی حاصل ہو جائے گی۔اور مکہ والوں کی ہوائی باتیں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکیں گی اور دنیا دیکھ لے گی کہ آخری فیصلہ اللہ تعالی کے ہی ہاتھ میں ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیرزیر سورة التين ) 833