نُورِ ہدایت — Page 76
پیشگوئی میں اس کی صراحت نہ کی۔غرض اسی روش اور طریق پر اس وقت ہمارے مخالفوں نے بھی قدم مارا ہے اور میری تکذیب اور ایذاء دہی میں انہوں نے کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میرے قتل کے فتوے دیئے اور طرح طرح کے حیلوں اور مکروں سے مجھے ذلیل کرنا اور نابود کرنا چاہا۔اگر خدا تعالیٰ کے فضل سے گورنمنٹ برطانیہ کا اس ملک میں راج نہ ہوتا تو یہ مدت سے میرے قتل سے دل خوش کر لیتے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ان کی ہر مراد میں نامراد کیا اور وہ جو اُس کا وعدہ تھا کہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة 68) وہ پورا ہوا۔غرض اس دُعا میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ) کا فرقہ مسلمانوں کے ایک گروہ کی اس حالت کا پتہ دیتا ہے جو وہ مسیح موعود کے مقابل مخالفت اختیار کرے گا اور ایسا ہی الضالين سے مسیح موعود کے زمانہ کا پتہ لگتا ہے کہ اس وقت صلیبی فتنہ کا زور اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ جاوے گا اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سلسلہ قائم کیا جاوے گا وہ مسیح موعود ہی کا سلسلہ ہوگا اور اسی لئے احادیث میں مسیح موعود کا نام خدا تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کا سر الصلیب رکھا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ ہر ایک مجد دفتن موجودہ کی اصلاح کے لئے آتا ہے اب اس وقت خدا کے لئے سوچو تو کیا معلوم نہ ہوگا کہ صلیبی نجات کی تائید میں قلم اور زبان سے وہ کام لیا گیا ہے کہ اگر صفحات عالم کو ٹولا جائے تو باطل پرستی کی تائید میں یہ سرگرمی اور زمانہ میں ثابت نہ ہوگی اور جبکہ صلیبی فتنہ کے حامیوں کی تحریریں اپنے انتہائی نقطہ پر پہنچ چکی ہیں اور توحید حقیقی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت ، عزت اور حقانیت اور کتاب اللہ کے من جانب اللہ ہونے پر ظلم اور زور کی راہ سے حملے کئے گئے ہیں تو کیا خدا تعالیٰ کی غیرت کا تقاضا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا سر الصلیب کو اُس وقت نازل کرے؟؟؟ کیا خدا تعالیٰ اپنے وعدہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر (10) کو بھول گیا ؟ یقیناً یاد رکھو کہ خدا کے وعدے سچے ہیں۔اس نے اپنے وعدہ کے موافق دنیا میں ایک نذیر بھیجا ہے۔دنیا نے اس کو قبول نہ کیا مگر خدا تعالیٰ اس کو ضرور قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس 76