نُورِ ہدایت — Page 825
تو زیتون کی شاخ سے اس کو خوشخبری ملی۔مصر سے موسیٰ کو بھا گنا پڑا تو طور سینین پر اس کو پناہ مل گئی۔چونکہ یہاں غلبہ اور ترقی کا مضمون ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دشمن کی تکالیف والے حصہ کو بیان نہیں کیا۔ورنہ دراصل والثنین کے معنے ہیں شیطان کا آدم کو دھوکا دینا اور تین سے اس کا کامیاب ہونا۔وَالزِّيْتُون کے معنے ہیں نوح کے لئے عرصہ حیات کا تنگ کیا جانا، طوفان آنا اور پھر زیتون سے نوح کو اپنی کامیابی کی بشارت ملنا۔طور سینین کے معنے ہیں مصر سے موسیٰ کا بھاگنا اور طور سینین پر اس کو اپنی کامیابیوں کی بشارت ملنا۔اور ھذا البلد الامین کے معنے ہیں مکہ سے محمد رسول اللہ علیم کا بھاگنا اور پھر آپ کا فاتح اور حکمران ہونے کی حیثیت سے مکہ میں واپس آنا۔مگر تکالیف اور ہجرت وغیرہ کا ذکر چونکہ مضمون سے خود بخود نکل آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر محض اشارہ کیا ہے۔اصل ذکر غلبہ اور کامیابی کا کیا ہے تا کہ دشمن اپنی عارضی کامیابی پر خوش نہ ہو اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو شکست دے دی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَهَذَا الْبَلَدِ الْآمین کہ ہم اس بلد الامین کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔آمین کے معنے یا تو آئمن کے ہوتے ہیں اور یا مامون کے ہوتے ہیں یعنی یا تو اس کے معنے ہیں کہ وہ بلد جو دنیا کو امن دیتا ہے اور یا پھر اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ بلد جس کو خدا نے مامون کر دیا ہے۔میرے نزدیک بلد الامین کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔یہ بھی کہ وہ شہر جو امن دینے والا ہے اور یہ بھی کہ وہ شہر جسے امن دیا گیا ہے۔آمین کا لفظ جو اس آیت میں استعمال کیا گیا ہے اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ جس وقت یہ سورۃ نازل ہوئی ہے اس وقت کے مکہ کی حالت کا اس میں ذکر نہیں کیونکہ اس وقت تو جو کچھ کیفیت تھی اس کا ذکر اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں کر چکا ہے أنتَ حِلٌّ بِهذا البلد تجھے اس بلد میں حلال سمجھا جارہا ہے اور کوئی تکلیف نہیں جو تجھے نہ پہنچائی جاتی ہو اور کوئی ظلم نہیں جو تجھ پر توڑا نہ جاتا ہو۔ہر قسم کے تیروں کا نشانہ انہوں نے تجھ کو 825