نُورِ ہدایت — Page 824
زیتون کے بعد طور سینین کی قسم کھائی گئی ہے یعنی اسے بھی شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔سینین کیا چیز ہے؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ سینین ایک علاقہ ہے جو دشت سینا کہلاتا ہے۔قرآن کریم نے خور کا لفظ استعمال کیا ہے اور طور کے معنے پہاڑ کے بھی ہوتے ہیں۔پس طور سینین کے یہ معنی ہیں کہ سینا کا ایک پہاڑ۔قرآن کریم سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے طور کو اس پہاڑ کا نام قرار نہیں دیا بلکہ طور معنی پہاڑ استعمال کیا ہے۔بعض مفسرین نے جو یہ سمجھا ہے کہ طور کسی پہاڑ کا نام ہے یہ درست نہیں۔طور کے معنے محض ایک پہاڑ کے ہیں اور انہیں معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔طور کے معنے پہاڑ کے ہیں اور طور کے لفظ سے اس پہاڑ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس پر حضرت موسیٰ سے کلام ہوا اور اس واقعہ کو چونکہ ہزاروں لوگوں نے بار بار بیان کیا آہستہ آہستہ طور کا لفظ ہی بجائے پہاڑ کے ایک خاص پہاڑ کا علم یعنی مخصوص نام سمجھا جانے لگا۔اللہ تعالیٰ موسیٰ" کی ہجرت کا واقعہ بطور مثال پیش کرتا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ طور کا واقعہ ہجرت کے بعد ہوا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ آدم اور نوع کی مثالیں پیش کرنے کے بعد فرماتا ہے ہم تیسری مثال تمہارے سامنے موسیٰ کی پیش کرتے ہیں۔موسیٰ کو دشمن کے مظالم کی وجہ سے ہجرت کرنی پڑی تھی اور وہ اپنی قوم کو ساتھ لے کر مصر سے باہر نکل آیا تھا۔موسیٰ کے دشمنوں نے سمجھا ہوگا کہ چلو چھٹی ہوئی ، ہمیں اس کے فتنہ سے نجات ملی مگر خدا نے اس ہجرت کو دشمنوں کی تباہی اور بنی اسرائیل کی ترقی کا موجب بنادیا۔اللہ تعالیٰ یہاں یہ مضمون بیان کر رہا ہے کہ محمد رسول اللہ علی ایم کو تمہاری تدبیروں سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔تین اور زیتون اور مطور سینین کے واقعات تمہارے سامنے ہیں۔آدم کو شیطان نے دھوکا دیا تو تین نے اس کا ننگ ڈھانک لیا۔نوح کے زمانہ میں طوفان آیا 824