نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 75 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 75

ان انعام و برکات اور معارف اور حقائق اور کشوف سے بہرہ ور نہیں ہو سکتا جو اعلیٰ درجہ کے تزکیہ نفس پر ملتے ہیں جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کھویا نہ جائے اور اس کا ثبوت خود خدا تعالیٰ کے کلام سے ملتا ہے قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ اللهُ (ال عمران 32) اور خدا تعالیٰ کے اس دعوی کی عملی اور زندہ دلیل میں ہوں اُن نشانات کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کے محبوبوں اور ولیوں کے قرآن شریف میں مقرر ہیں مجھے شناخت کرو۔غرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا کمال یہاں تک ہے کہ اگر کوئی بڑھیا بھی آپ کا ہاتھ پکڑتی تھی تو آپ کھڑے ہو جاتے تھے اور اُس کی باتوں کو نہایت توجہ سے سنتے اور جب تک کہ وہ خود آپ کو نہ چھوڑتی آپ نہ چھوڑتے تھے اور پھر غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے بالمقابل ہے۔اس کا ورد کرنے والا چشمہ ملِكِ يَوْمِ الدین سے فیض پاتا ہے جس کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ اے جزا وسزا کے دن کے مالک! ہمیں اس سے بچا کہ یہودیوں کی طرح جو دنیا میں طاعون وغیرہ بلاؤں کا نشانہ ہوئے اور اُس کے غضب سے بلاک ہو گئے یا نصاری کی طرح نجات کی راہ کھو بیٹھیں اس میں یہود کا نام مغضوب اس لئے رکھا گیا ہے کہ ان کی شامت اعمال سے دنیا میں بھی اُن پر عذاب آیا کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں اور راست بازوں کی تکذیب کی اور بہت سی تکلیفیں پہنچائیں اور یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے جو یہاں سورہ فاتحہ میں یہودیوں کی راہ سے بچنے کی ہدایت فرمائی اور اس سورہ کو الضالین پر ختم کیا یعنی ان کی راہ سے بھی بچنے کی ہدایت فرمائی تو اس میں کیا بسر تھا۔اس میں یہی راز تھا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک قسم کا زمانہ آنے والا ہے جب کہ یہود کی تبع کرنے والے ظاہر پرستی کریں گے اور استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے خدا کے راستباز کی تکذیب کے لئے اٹھیں گے جیسا کہ یہود نے مسیح ابن مریم کی تکذیب کی تھی اور انہیں یہی مصیبت پیش آئی کہ انہوں نے اس کی تاویل پر ٹھٹھا کیا اور کہا کہ اگر خدا کا یہی مطلب تھا کہ ایلیا کا مثیل آئے گا تو کیوں خدا نے اپنی 75