نُورِ ہدایت — Page 797
دوم جس مقصد کو لے کر وہ کھڑا ہو اس کو پورا کرنے کے ذرائع اس کو میسر آجائیں۔اور تیسرے یہ کہ لوگوں کی توجہ اس کی طرف پھر جائے۔چوتھے یہ کہ یہ سامان الہی تقدیر کے ماتحت پیدا ہوں۔جب یہ چار چیزیں کسی شخص کو حاصل ہو جائیں تو ابتدا ہی سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ وہ شخص غالب آجائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے محمد رسول اللہ صل العلیم یہ چاروں باتیں تجھے حاصل ہیں اس صورت میں تیرے مخالفین کو سمجھ لینا چاہئے کہ تیرے انجام کی بہتری کے متعلق کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ہر ملک اور ہر قوم میں یہ دستور پایا جاتا ہے کہ ان میں سے جب کسی شخص کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے یا کسی حقیقت پر اس کا دل تسلی پا جاتا ہے تو ایسے موقع پر ہمیشہ اظہار اطمینان کے لئے وہ شرح صدر کا لفظ استعمال کرتا ہے۔اردو میں بھی کہتے ہیں کہ فلاں بات کے لئے میرا سینہ کھل گیا۔أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدرَك میں گو الفاظ استفہامی یعنی سوالیہ استعمال کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کیا ہم نے تیرے سینہ کو نہیں کھولا؟ مگر مفہوم یہ ہے کہ تو جانتا ہے ہم نے تیرے سینہ کو کھول دیا ہے۔الم نشرح لك صَدْرَكَ کے یہ معنے نہیں کہ تجھ سے ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا تیرا سینہ کھولا گیا ہے یا نہیں؟ بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ تو بھی جانتا ہے کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے اور تیرے دشمن بھی جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ہم نے کھول دیا ہے۔اس جگہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیوں نہ سیدھے سادے الفاظ میں یہ کہہ دیا ہے کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ کہا جاتا کہ ہم نے تیرا سینہ کھول دیا ہے تو اس سے صرف ایک خبر کا مفہوم نکلتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ اطلاع دیتا ہے کہ ہم نے سینہ کو کھول دیا۔لیکن یہ مفہوم نہ نکلتا کہ اس شرح صدر کا کوئی ظاہر نتیجہ بھی نکلا ہے یا نہیں اور رسول کریم علی امی کو بھی اس شرح صدر کا کوئی احساس ہوا ہے یا نہیں اور کفار نے بھی اس کا 797