نُورِ ہدایت — Page 71
رکھی جانے والی اشیاء کی طرح ہو کر فیض حاصل کرتا ہے۔اور عبادت کی حقیقت ہے۔پوری انکساری سے معبود کی تعظیم کرنا اور اس کے نمونہ کو اختیار کرنا۔اس کے رنگ سے رنگین ہونا اور فانی فی اللہ لوگوں کی طرح نفسانیت اور انانیت سے الگ ہو جانا۔اس میں راز یہ ہے کہ انسان کو بیمار اور روگی اور پیاسے کے مثل پیدا کیا گیا ہے۔اور اس کی شفاء اس کی پیاس کی تسکین اور اس کے جگر کی سیر ابی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے پانی سے ہوتی ہے۔وہ تبھی صحت مند اور سیراب ہو سکتا ہے۔جب وہ اللہ کی طرف اپنا رُخ موڑ لیتا ہے اور اس کے ساتھ اپنے عشق کو بڑھاتا ہے اور وہ اس ( معبود حقیقی ) کی طرف پانی کے طالبوں کی طرح دوڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کوئی چیز نہ تو اس کی فطرت کو پاک کر سکتی ہے نہ اس کے غبار خاطر کو مجتمع کرسکتی ہے۔اور نہ اس کے منہ کا ذائقہ شیریں بنا سکتی ہے۔سنو! اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان ہی لوگوں کے دل مطمئن ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے حضور فرمانبردار بن کر آتے ہیں۔پس آیت مبارکہ ايَّاكَ نَعْبُدُ میں اللہ تعالیٰ کی معبودیت کا اعتراف ہے جو تمام صفات کا ملہ کا جامع ہے اور اسی لئے یہ جملہ (ايَّاكَ نَعْبُدُ الْحَمدُ للہ کے جملہ کے تحت ہے۔پس تو غور کر ! اگر تو غور کرنے والوں میں سے ہے۔ان میں سے دوسرا سمندر رب العالمین کا ہے۔اور اس سے إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے کیونکہ بندہ جب یہ بات سنتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کی پرورش کرتا ہے اور ایسا کوئی عالم نہیں جس کا وہ مرتی نہ ہو اور وہ ( بندہ) اپنے نفس کو بدی کا حکم دینے والا دیکھتا ہے تو وہ گریہ وزاری کرتا ہے اور مجبور ہو کر اس کے دروازہ کی طرف پناہ ڈھونڈتا ہے۔اس کے دامن سے لپٹ جاتا ہے اور اس کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی (روحانی) ضیافت گاہ میں داخل ہو جاتا ہے تا وہ (پاک ذات ) اپنی ربوبیت سے اس کی دستگیری کرے اور اس پر احسان فرمائے اور وہ بہترین احسان کرنے والا ہے۔پس ربوبیت ایک ایسی صفت ہے جو ہر چیز کو اس کے وجود کے مناسب حال خلق عطا کرتی ہے۔اور اس کو ناقص حالت میں نہیں رہنے دیتی۔71