نُورِ ہدایت — Page 70
آجاتا ہے۔الحکم 31 اگست 1901 ، صفحہ 1-2) واضح ہو کہ ان صفات الہیہ کی ترتیب میں اور بلاغت پائی جاتی ہے جسے ہم ( یہاں ) بیان کرنا چاہتے ہیں۔تا صاحب بصیرت لوگوں ( کی بینائی) کے شرمہ سے آپ کی آنکھیں بھی روشن ہوں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان صفات کے معابعد جو آیات سجائی ہیں وہ انہیں صفات پر منقسم ہیں۔(یعنی ہر آیت ایک خاص صفت سے متعلق ہے ) بلحاظ ایک دوسری کے مقابل واقع ہونے کے اور آسمانوں اور زمینوں کے طبقات کی طرح ایک دوسری کے اوپر تلے رکھے جانے کے۔اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے خدا تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کا اسی ترتیب کے ساتھ ذکر کیا جو کائنات عالم میں پائی جاتی ہے۔پھر ان تمام امور کو جو بشریت کے مناسب حال ہیں اسی ترتیب کے ساتھ بیان کیا جو خدائی قانون میں نظر آتی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے ہر بشری صفت کو ایک الہی صفت کے تحت رکھ دیا۔اور ہر انسانی صفت کے لئے ایک صفتِ الہیہ کو گھاٹ یا پینے کا مقام قرار دیا جس سے وہ مستفیض ہو۔خدا تعالیٰ نے ان آیات میں ایک وضعی ترتیب کے مطابق آپس میں تقابل دکھایا ہے پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ تعالیٰ جو بہترین ترتیب دینے والا ہے۔اس مضمون کی مکمل تشریح یوں ہے کہ یہ صفات ( اللہ تعالی کے ) اسم ذات سمیت پانچ سمندر ہیں۔جن کا ذکر اس سورت کے شروع میں آیا ہے یعنی اللہ، رَبُّ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعداد کے مطابق ان (سمندروں) سے مستفیض ہونے والی آیات کا ذکر کیا ہے۔اور ان پانچ کو اُن پانچ کے مقابل پر رکھا ہے۔اور ہر فیض حاصل کرنے والی آیت ایک ایسی صفت سے مستفیض ہوتی ہے جو اس کے مشابہ اور اس کے مقابل ہے۔اور اس سے وہ مطالب اخذ کرتی ہے جن پر وہ صفت حاوی ہے اور جو طالبانِ الہی کو بے حد پسندیدہ ہیں۔مثلاً ان میں سے سب سے پہلا سمندر اللہ (اسم ذات) کا سمندر ہے۔اس کے مقابل اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا فقرہ ہے جو مقابل میں 70