نُورِ ہدایت — Page 771
کونچیں کاٹنے پر ثمود کی قوم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بن گئی۔اسی لئے بعض مفسرین نے اس ناقہ کے متعلق یہ عجیب بات لکھ دی ہے کہ وہ پہاڑ سے پیدا ہوئی تھی عام اونٹنیوں کی طرح نہیں تھی۔حالانکہ نبی کی موجودگی میں یہ ہو ہی کس طرح سکتا تھا کہ نبی کو دکھ دینے کی وجہ سے تو قوم پر عذاب نازل نہ ہو اور ناقہ کی کونچیں کاٹنے پر عذاب نازل ہو جائے! اصل بات یہ ہے کہ حضرت صالح" عرب میں مبعوث ہوئے تھے اور عرب میں اونٹوں پر سواری کی جاتی تھی۔حضرت صالح بھی اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے اور ادھر ادھر تبلیغ کے لئے نکل جاتے۔لوگ کھلے طور پر حضرت صالح" کا مقابلہ کرنے سے ڈرتے تھے کیونکہ ان کے رشتہ دار موجود تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے صالح" کو کوئی تکلیف پہنچائی تو اس کے رشتہ دار ہم سے بدلہ لینے کے لئے کھڑے ہو جائیں گے۔مگر چونکہ وہ تبلیغ بھی پسند نہیں کرتے تھے اس لئے وہ بعض اور طریق آپ کو دکھ پہنچانے کے لئے اختیار کر لیتے تھے۔انہی میں سے ایک طریق یہ تھا کہ جب حضرت صالح تبلیغ کے لئے ارد گرد کے علاقوں میں نکل جاتے تو کسی جگہ کے لوگ کہتے کہ ہم ان کی اونٹنی کو پانی نہیں پلائیں گے، کسی جگہ کے لوگ کہتے کہ ہم کھانے کے لئے کچھ نہیں دیں گے۔ان کی غرض ی تھی کہ جب انہیں اونٹنی کے لئے پانی اور چارہ وغیرہ نہ ملا تو یہ خود بخود اس قسم کے سفروں سے رک جائیں گے اور تبلیغ میں روک پیدا ہو جائے گی۔حضرت صالح نے ان کو سمجھایا کہ تم اس ناقہ کو آزاد پھر نے دو اور اس کے پانی پینے میں روک نہ بنو کیونکہ اس طرح میری تبلیغ میں روک واقعہ ہوجائے گی۔یہ مطلب نہیں تھا کہ تم مجھے تو اپنے پاس بے شک نہ آنے دو مگر یہ اونٹنی آئے تو اسے پانی پلا دینا۔انہیں اونٹنی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔انہیں اگر دشمنی تھی تو حضرت صالح ہے۔اور وہ کہتے تھے کہ وہ اونٹنی پر سوار ہو کر ارد گرد کے علاقوں میں ایک شور پیدا کر دیتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی طرف تو جہ دلاتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔یہ چیز تھی جو ان کی طبائع پر سخت گراں گزرتی تھی۔اور آخر اس کا علاج انہوں نے یہ سوچا کہ جب حضرت صالح" باہر نکلتے تو ان کی اونٹنی کو وہ کہیں پانی نہ پینے دیتے۔اس پر حضرت صالح علیہ السلام نے اظہار ناراضگی کرتے ہوئے کہا ناقةً 771