نُورِ ہدایت — Page 770
صرف ان کا تسو یہ ہونا چاہئے اور ان کے استعمال میں اعتدال کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ فطرت کو مار دو بلکہ وہ کہتا ہے تم فطرت سے اونچا مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ فطرت کا علم ایک مجمل علم ہوتا ہے اور مجمل علم سے نجات نہیں ہوسکتی۔پس قد فَلَحَ مَنْ زَكُهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا کے یہ معنے ہوئے کہ اگر تم اپنی فطری طاقتوں کو ابھارتے ہو تو الہی مدد کو حاصل کر لیتے ہو لیکن اگر تم ان طاقتوں کو دباتے ہو اور اس چیز کو ضائع کر دیتے ہو جو تمہیں ہتھیار کے طور پر دی گئ تھی تو تم کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔كَذَّبَت المود يطعوها شمود نے اپنی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی کی وجہ سے ( زمانے کے نبی کو ) جھٹلایا۔حمد یہاں اللہ تعالیٰ نے دش کا طریق بتایا ہے کہ وہ دو ہی طرح ہو سکتا ہے یا تو جتنی قوت انسان کے اندر موجود ہوتی ہے وہ اس سے آگے نکل جاتا ہے اور یا پھر جتنی قوت موجود ہوتی ہے اس سے پیچھے رہ جاتا ہے۔حد سے نکل جانا دونوں طرح ہی ہوتا ہے۔اس طرح بھی کہ انسان اگلی طرف کو چلا جائے اور اس طرح بھی کہ پچھلی طرف کو آجائے۔ایسے کاموں سے فطرت کا نور مارا جاتا ہے اور اس کی قوتیں کچلی جاتی ہیں۔فرماتا ہے ثمود کی بھی یہی کیفیت تھی۔وہ لوگ اپنے کاموں میں حد سے آگے نکل گئے تھے خدا تعالیٰ نے ایک وسطی تعلیم ان کے لئے نازل کی تھی مگر وہ اس درمیانی خط پر کھڑے ہونے کی بجائے کبھی ادھر چلے جاتے اور کبھی اُدھر چلے جاتے۔درمیانی راستہ جو پل صراط ہوتا ہے اور جس پر ہر مومن کو اس دنیا میں چلنا پڑتا ہے اُس راستہ پر وہ نہیں چلتے بلکہ یا دائیں طرف کو نکل جاتے تھے یا بائیں طرف کو نکل جاتے۔اعتدال کو انہوں نے ترک کر دیا تھا۔إذا تبَعَتَ اَشْقُهَا۔فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقُيهَا یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے مگر افسوس ہے کہ لوگوں نے اس کی حکمت کو نہیں سمجھا اور انہوں نے خیال کر لیا ہے کہ وہ ناقہ اپنے اندر کوئی خاص عظمت اور شان رکھتی تھی جس کی 770