نُورِ ہدایت — Page 754
بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہوتا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے۔سوا اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو وہ زندگی کا پانی اس پر بندمت کر دو اور اپنی بے جا خواہشوں کے تیر و تبر سے اس کے پیر مت کاٹو۔اگر تم ایسا کرو گے اور وہ ناقہ جو خدائے تعالیٰ کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل سکتے اور خشک لکڑی کی طرح متصور ہو کر کاٹ دیے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے مرنے کے بعد خدائے تعالیٰ تمہارے پس ماندوں پر ہر گز رحم نہیں کرے گا بلکہ تمہاری معصیت اور بدکاری کا وبال ان کے بھی آگے آئے گا اور نہ صرف تم اپنی شامت اعمال سے مرو گے بلکہ اپنے عیال واطفال کو بھی اسی تباہی میں ڈالو گے۔ان آیات بینات سے صاف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا۔اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ سے انسان کو کوئی عزت نہیں بخشتے بلکہ خود اُن کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو در حقیقت وہ تمام خادم ہیں، نہ مخدوم۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 79 تا 85) فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا حمد اس کے تو صرف اسی قدر معنی ہیں کہ خدائے تعالی بوجہ علت العلل ہونے کے بدوں کو اُن کے مناسب حال اور نیکوں کو اُن کے مناسب حال اُن کے جذبات نفسانی یا متقیانہ جوشوں کے موافق اپنے قانون قدرت کے حکم سے خیالات و تدابیر ویل مطلوبہ کے ساتھ تائید دیتا ہے یعنی نئے نئے خیالات وحیل مطلوبہ اُن کو سوجھا دیتا ہے یا یہ کہ اُن کے ان جوشوں اور جذبوں کو بڑھاتا ہے اور یا یہ کہ اُن کے تخم مخفی کو ظہور میں لاتا ہے۔مثلا ایک چور اس خیال میں لگا رہتا ہے کہ کوئی عمدہ طریقہ نقب زنی کا اس کو معلوم ہو جائے تو اس کو سوجھایا جاتا ہے۔یا 754