نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 753 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 753

خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا۔لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بیجا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامرادر ہے گا۔ما حصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلا شبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ ایک مثال کے طور پر ثمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہوں نے بباعث اپنی جبلی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس کی تکذیب کے لئے ایک بڑا بد بخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقتہ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اونٹنی کے پاؤں کاٹے۔سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مارڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہوگا۔یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقۃ اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔مطلب یہ ہے کہ انسان کا نفس بھی درحقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تاوہ ناقتہ اللہ کا کام دیوے۔اس کے فنا فی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک محلی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتا ہے۔سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدید اور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقتہ اللہ کا سفیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یاد الہی اور معارف الہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقوف ہے اس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف 753