نُورِ ہدایت — Page 752
مَنْ دَشَهَا۔یعنی خدائے تعالیٰ نے نفس انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نورانیت اور ویرانی اور سرسبزی کی دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں۔جو شخص ظلمت اور فجور یعنی بدکاری کی را ہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتا ہے یہاں تک کہ اندھیری رات سے اس کی سخت مشابہت ہو جاتی ہے اور بجز معصیت اور بدکاری اور پر ظلمت خیالات کے اور کسی چیز میں اس کو مزہ نہیں آتا۔ایسے ہی ہم صحبت اس کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ایسے ہی شغل اس کے جی کو خوش کرتے ہیں اور اس کی بدطبیعت کے مناسب حال بدکاری کے الہامات اس کو ہوتے رہتے ہیں۔یعنی ہر وقت بدچلنی اور بدمعاشی کے ہی خیالات اس کو سو جھتے ہیں۔کبھی اچھے خیالات اس کے دل میں پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر پرہیز گاری کا نورانی راستہ اختیار کرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے رہتے ہیں۔یعنی خدائے تعالیٰ اس کے دلی نور کو جو تخم کی طرح اس کے دل میں موجود ہے اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے۔تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے۔اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پر کواکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قویٰ کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اور کسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے۔اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیوں کر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قَد أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشْهَا یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکنی رذائل اور اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو کر 752