نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 748 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 748

سے وحی اور الہام پانے والے تمام عقلمندوں کو جانکاہی سے آرام دیتے ہیں۔ان کے طفیل سے بڑے بڑے معارف آسانی کے ساتھ حل ہو جاتے ہیں۔ایسا ہی خدا کی وحی انسانی عقل کی پردہ پوشی کرتی ہے جیسا کہ رات پردہ پوشی کرتی ہے۔اس کی ناپاک خطاؤں کو دنیا پر ظاہر ہونے نہیں دیتی۔کیونکہ عقلمند وحی کی روشنی کو پا کر اندر ہی اندر اپنی غلطیوں کی اصلاح کر لیتے ہیں اور خدا کے پاک الہام کی برکت سے اپنے تئیں پردہ دری سے بچا لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ افلاطون کی طرح اسلام کے کسی فلاسفر نے کسی بت پر مرغ کی قربانی نہ چڑھائی۔چونکہ افلاطون الہام کی روشنی سے بے نصیب تھا۔اس لئے دھوکا کھا گیا اور ایسا فلاسفر کہلا کر یہ مکروہ اور احمقانہ حرکت اس سے صادر ہوئی۔مگر اسلام کے حکماء کو ایسی ناپاک اور احمقانہ حرکتوں سے ہمارے سید و مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نے بچالیا۔اب دیکھو کیسا ثابت ہوا کہ الہام عقلمندوں کا رات کی طرح پردہ پوش ہے۔یہ بھی آپ لوگ جانتے ہیں کہ خدا کے کامل بندے آسمان کی طرح ہر ایک درماندہ کو اپنے سایہ میں لے لیتے ہیں۔خاص کر اس ذات پاک کے انبیاء اور الہام پانے والے عام طور پر آسمان کی طرح فیض کی بارشیں برساتے ہیں۔ایسا ہی زمین کی خاصیت بھی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ان کے نفس نفیس سے طرح طرح کے علوم عالیہ کے درخت نکلتے ہیں جن کے سایہ اور پھل اور پھول سے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔سو یہ کھلا کھلا قانون قدرت جو ہماری نظر کے سامنے ہے اسی چھپے ہوئے قانون کا ایک گواہ ہے جس کی گواہی کو قسموں کے پیرا یہ میں خدا تعالیٰ نے ان آیات میں پیش کیا ہے۔سو دیکھو کہ یہ کس قدر پر حکمت کلام ہے جو قرآن شریف میں پایا جاتا ہے۔( اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 428424) آیت وَ نَفْسٍ وَمَا سَوهَا - صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ انسانِ کامل اپنے معنے اور کیفیت کے رُو سے ایک عالم ہے اور عالم کبیر کے تمام شیون وصفات وخواص اجمالی طور پر اپنے اندر جمع رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے شمس کی صفات سے شروع کر کے زمین تک جو ہماری سکونت کی جگہ ہے سب چیزوں کے خواص اشارہ کے طور پر بیان فرمائے یعنی بطور 748