نُورِ ہدایت — Page 66
سے انکار کرتا ہے گویا وہ بجائے چارصفتوں کے صرف تین صفتوں کو مانتا ہے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 247 -252) رب - لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتابیں ہیں لکھا ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ سات معنوں پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہیں۔مالک۔سید۔مدثر۔مربی - قیم - مُنْعِم - مُتَمِّم۔چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیونکہ قبضہ تامہ ہو اور تصرف تمام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں۔منن الرحمان۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 152 ، 153 حاشیہ) عالم کے معنے ہیں جس کے متعلق علم اور خبر دی جا سکے اور جو مدبر بالا رادہ کامل یگانہ صانع پر دلالت کرے۔اور جو ( یعنی عالم ) اس ( یکتا ہستی) پر ایمان لانے کے لئے طالب حق کو مجبور کردے اور اس ( طالب) کو مومنوں ( کے گروہ ) تک پہنچا دے۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 110 ) عالمین سے مراد مخلوق کو پیدا کرنے والے خدا کے سوا ہر ہستی ہے خواہ وہ عالم ارواح سے ہو عالم اجسام سے اور خواہ وہ زمینی مخلوق سے ہو یا سورج چاند اور ان کے علاوہ دیگر اجرام کی مانند ( کوئی چیز ہو۔پس تمام عالم جناب باری کی ربوبیت کے تحت داخل ہیں۔اعجاز المسیح۔روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 139-140) یہاں خالقی العالمین نہیں فرمایا بلکہ رب العالمین فرمایا۔اس لئے کہ بعض قومیں ربوبیت کی منکر ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملتا ہے ہمارے عملوں کے سبب سے ہی ملتا ہے مثلاً اگر دودھ ملتا ہے تو اگر ہم کوئی گناہ کر کے گائے یا بھینس وغیرہ کے جون میں نہ جاتے تو دودھ ہی نہ ہوتا۔اور خلق چونکہ قطع برید کرنے کا نام ہے اس لئے اس موقعہ پر رب العالمین کو جو اس سے 66