نُورِ ہدایت — Page 711
والی جماعت۔(اقرب) خاشعة کے معنے چونکہ عام مشکلات اور مصائب کے بھی ہیں جن میں وہ لڑائیاں بھی شامل ہیں جو کفار سے ہوئیں۔اس لحاظ سے عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ کے یہ معنے ہوں گے کہ اب مخالفین اسلام تمہارے خلاف منصوبے کرنے والے ہیں اور اُن بغضوں اور کینوں کو جن کو وہ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے تھے ظاہر کرنے والے ہیں۔سورۃ فاشیہ کا نزول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کے چوتھے سال کے قریب ہوا ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں کفار مکہ کی طرف سے منظم رنگ میں ایذا دہی کا سلسلہ شروع ہوا۔چنانچہ انہوں نے اپنے بغضوں اور شرارتوں کا اعلان کر دیا۔پس اُن کے اس اعلان کی ہی خبر خدا تعالیٰ نے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ میں دی ہے کیونکہ نَاصِبَةٌ کے ایک معنے افسر مقرر کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔اس لئے اس آیت میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ وقت آرہا ہے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں مکہ والے کمانڈر اور افسر مقرر کریں گے اور یہ لوگ پورا زور لگائیں گے کہ اسلام نہ پھیلے۔چنانچہ پیشگوئی کے مطابق مخالفین نے مخالفت کے جھنڈے گاڑ دئیے اور مقابلہ کے لئے اُتر آئے۔پھر جن الفاظ میں مخالفین کی مخالفت خبر دی ہے وہ ایسے ہیں کہ ان سے مخالفت کی تفصیل اور اُس کا انجام بھی معلوم ہو جاتا ہے۔چنانچہ پہلے عاملہ کہا اور عاملہ میں انفرادی طور پر مکہ والوں کے مخالفت کرنے کا ذکر تھا۔مگر اس کے بعد تا صبة کا لفظ استعمال کیا اور ناصبة میں قومی طور پر مخالفت کرنے کا ذکر ہے اور اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اب مکہ والے صرف انفرادی طور پر نہیں بلکہ قومی طور پر اجتماعی رنگ میں بھی مخالفت کریں گے اور اپنے میں سے بعض کو افسر مقرر کریں گے تا کہ ایک تنظیم کے ماتحت وہ مسلمانوں سے لڑیں اور اُن کو دق کریں۔پھر تاصبة کے ایک معنے چونکہ تھکنے والی جماعت کے بھی ہیں۔گویا آیت کے اس 711