نُورِ ہدایت — Page 701
گولیاں بنا کر دی جاتی ہیں اوپر سے گرم گرم پانی پلایا جاتا ہے۔غرض دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔اسی طرح پر آخرت میں بھی ہوگا۔رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ (الفرقان 66) - آمین۔ان کے بالمقابل ایک گروہ خوش و خرم ہوگا اور اپنی تدابیر کے پورے ہونے اور مساعی میں خدا کے فضل سے کامیاب ہونے پر شاداں و فرحاں ہوگا۔ان کے لئے باغات عالی مرتبہ ہوں گے جن میں لغویات کو دخل نہیں۔اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے اور تخت ہوں گے۔کوزے آبخورے قرینہ سے رکھے ہوں گے۔قالین اور تکیے لگے اور بچھے ہوئے۔غرض یہ تمام انعامات اس دنیا میں صحابہ کو ملے اور انہوں نے ایسے باغات حاصل کئے۔ان تمام امور پر پہلے مختلف جگہ ہم نے بحث کر دی ہے۔اب زیادہ تفصیل اور توضیح کی ضرورت نہیں۔المختصر مکہ معظمہ میں منکرین کو عذاب کی اور موافقین و متبعین کو کامیابی اور جنات عالیہ کی خوشخبری برنگ پیشگوئی دی جاتی ہے۔اور بتایا ہے کہ قیامت میں بھی ایسا ہی ہوگا۔دنیا میں اس طرح پر ہوا۔اور یہ قیامت کا ثبوت ٹھہرا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان یکم اگست 1912ء) أَفَلَا يَنْظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ اس آیت شریف اور اس کے مابعد کی اور تین آیتوں میں صبر اور استقلال اور مصائب کے وقت یک رنگی کا بیان ہے۔سب سے پہلے اونٹ کا ذکر فرمایا کہ کس طرح وہ بارکش اور نافع للناس وجود ہے۔وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ نزول بلا کے وقت اہلِ صفا آسمان کی طرح مرفوع الاحوال پہاڑوں کی طرح مستقل المزاج اور زمین کی کشادگی کی طرح وسیع الحوصلہ ہوتے ہیں۔بعض کوتاہ نظر معترضوں نے ابل سماء جبال اور ارض ان چار مناظر کو ایک جگہ مذکور دیکھ کر اعتراض کیا ہے کہ کلام بے ربط ہے۔کوئی بات آسمان کی ہے تو کوئی زمین کی۔ایک جانور ہے تو دوسرا پہاڑ۔یہ اعتراض قلت تدبر اور سور نہم کی وجہ سے ہے۔ورنہ مناسبت ایسی تام اور ابلغ ہے کہ نظارہ قدرت میں اس سے بڑھ کر 701