نُورِ ہدایت — Page 668
معتدل القویٰ اور ترقی کرنے والا بنایا۔دوسرے یہ کہ جب بھی اُس میں کوئی خرابی پیدا ہوئی اللہ تعالیٰ نے اُس کو دُور کیا۔اِن دونوں معنوں کے لحاظ سے قدَّدَ فَهَدی کے بھی دو معنے ہوں گے۔پہلے معنوں کے مقابلہ پر یہ کہ چونکہ انسان میں ترقی کی استعداد رکھی گئی تھی اور اسے کامل القویٰ بنا دیا گیا تھا۔محمد اتعالیٰ نے اُس کی طاقتوں کا اندازہ کر کے اس کے متواتر ترقی کرتے چلے جانے کے ذرائع مہیا کئے۔دوسرے معنے الَّذِی خَلَقَ فَسَوی کے یہ تھے کہ جب کبھی اس میں خرابی پیدا ہوئی اور وہ حج ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کی ضرورت کے مطابق اُس کی اصلاح کے سامان کئے اور اس کی کجی کوڈ ور کر دیا۔ان معنوں کے لحاظ سے وَالَّذِي قَدر فَھدی کے یہ معنے ہوں گے کہ جب بھی وہ کج ہوا اُس کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہدایت بھیجوا دی۔اور اس طرح اُس کی اصلاح کی۔اگر ضرورت کے مطابق ہدایت نہ ہوتی یا کم ہوتی تو وہ گمراہ ہو جاتا اور اگر ضرورت سے بڑھ جاتی تب بھی اُس کی قوتیں ٹوٹ جاتیں اور وہ حیران رہ جاتا۔پس اصلاح کا اُس نے صحیح طریق اختیار کیا اور اس قدر جو ضروری تھا نازل کیا۔گویا جیسی جیسی مرض تھی اور جتنی جتنی کجی پائی جاتی تھی اُس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے علاج نازل کیا۔غرض پہلی آیت کے جو دو معنے کئے گئے تھے اُن کے لحاظ سے اس آیت کے بھی دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ اُس نے انسان کی استعداد کمال کو ضائع نہیں ہونے دیا بلکہ ہمیشہ اس کے بڑھنے کے ذرائع مہیا کئے۔دوسرے یہ کہ مرض پیدا ہونے پر اُس مرض کے مطابق علاج نازل کیا۔ایک معنوں کے لحاظ سے ترقی کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے ازالہ مرض کی طرف اشارہ ہے۔۔حمد اس آیت کے ایک اور معنے بھی ہیں اور وہ یہ کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے انسان کو معتدل القویٰ اور نقائص سے پاک بنایا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اُس نے انسان کے لئے کئی قسم کی حد بندیاں بھی قائم کر دی ہیں۔یہ نہیں کہ وہ اُن قوتوں کو بے تحاشا استعمال کرنا شروع کر دے۔668