نُورِ ہدایت — Page 660
کو سخت سست کہہ دے تو تمہیں بڑا بڑا جوش پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہو لیکن جس وقت اللہ کے کسی فعل پر ( کہ وہ بھی اس کے اسم کا نتیجہ ہے ) کوئی نادان یا شریر اعتراض کرتا ہے تو تم کہتے ہو۔جانے دو۔کافر ہے۔بکتا ہے۔اس وقت تمہیں جوش نہیں۔حالانکہ جن کے لئے تم نے اتنا جوش دکھایا ان میں تو کچھ نہ کچھ نقص یا عیب و قصور ضرور ہو گا۔مگر اللہ تو ہر برائی سے منزہ ہ، ہر حمد سے محمود ہے۔ہر وقت تمہاری ربوبیت کرتا ہے۔اب جو اس کے اسماء کے لئے اپنے تئیں سینہ سپر نہیں کرتا وہ نمک حرام ہی ہے۔اور کیا؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کوئی پڑھے ہوئے ہیں جولوگوں سے مباحثے کرتے پھریں ؟ تعجب کی بات ہے کہ اگر کوئی ان کے ماں باپ یا بھائی بہن کو یا کسی دوست کو یا خودان کو بُرا کہہ دے تو ناخواندگی یاد نہیں رہتی اور سنتے ہی آگ ہو جاتے ہیں۔اور پھر جس طریق سے ممکن ہو اس کا دفاع کرتے ہیں۔مگر جناب الہی سے غافل ہیں۔اسی طرح خدا کے برگزیدوں پر طعن کرنا دراصل خدا تعالیٰ کی برگزیدگی پر طعن رکھنا ہے۔اس کے لئے بھی مومنوں کو غیرت چاہئے۔ایک شخص تمہارے پاس آتا ہے اور تم کو آ کر کہتا ہے۔میاں تم بڑے اچھے، بڑے ایمان دار۔آئیے تشریف رکھئے۔باپ تمہارا بڑا ڈوم، بھڑوا ، کنجر، بڑا حرام زادہ ، سو ر، ڈاکو، بدمعاش تھا۔تم بڑے اچھے آدمی ہو اور ساتھ ساتھ خاطر داری کرتا جائے تو کیا تم اس کے اخلاق کی تعریف کرو گے؟ مومن کا فرض ہے کہ جناب الہی میں تسبیح کرے۔اس کے اسماء کی تسبیح میں کوشاں رہے۔ان کے انتخاب شدہ بندوں کی تسبیح کرے۔ان پر جو الزام لگائے جاتے ہیں، جو عیوب ان کی طرف شریر منسوب کرتے ہیں۔اُن کا دفاع وذب کرے اور سمجھائے کہ جنہیں میرارب برگزیدہ کرے، وہ بدکار اور لعنتی نہیں ہوتے۔ان کی تسبیح خدا کی تسبیح ہے۔ی معنے ہیں سبح اسم ربک الاعلی کے۔فَذَكِرانْ نَّفَعَتِ الذِكرُى ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں اور اللہ فرماتا ہے نصیحت کرتے رہو۔نصیحت ضرور سُودمند 660