نُورِ ہدایت — Page 658
جس طرح فطرت کا یہ تقاضا ہے اور انسان اسے بہر حال پورا کرتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہارا مربی، میں تمہارا محسن ہوں جیسے تم نے اپنے جسم کو مصفی و مطہر بے عیب بنا کر نکلنے کی کوشش کی ہے۔ویسے ہی تم اپنے رب کے نام کی بھی تسبیح کرتے ہوئے نکلو اور دنیا والوں پر اس کا بے عیب ہونا ظاہر کرو۔ادنی مرتبہ تو یہ ہے کہ مومن اپنی زبان سے کہے۔سُبحان اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ پھر وہ کلمات جن سے میں نے اپنے خطبہ کی ابتدا کی اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ۔وَلِلهِ الْحَمدُ۔اس میں بھی اس کی کبریائی کا بیان ہے۔پھر اس سے ایک اعلیٰ مرتبہ ہے۔وہ یہ ک تسبیح دل سے ہو کیونکہ یہ جناب الہی کے قرب کا موجب ہے۔كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ سُبْحَانَ اللهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ اور فرماتا ہے کہ ولكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج 38) پس ضرور ہے کہ یہ تسبیح جو کریں تو دل کو مصفا کر کے کریں۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ اللہ کے فضل پر ناراض نہ ہوں اور یہ یقین کریں کہ جو کچھ خدا کرتا ہے بھلا ہی کرتا ہے۔اور جو کچھ کرے گا وہ بھی ہماری بھلائی و بہتری کے لئے کرے گا۔پس ہمیں چاہئے کہ اس اللہ کو جس کی ذات اعلیٰ اور تمام قسم کے نقصوں اور عیبوں سے بالاتر ہے۔رنج و راحت ، سر وئیسر میں بے عیب یقین کریں۔غرض تم زبان سے سبحان اللہ کا ورد کرو تو اس کے ساتھ دل سے بھی ایسا اعتقاد کرو اور اپنے دل کو تمام قسم کے گندے خیالات سے پاک کر دو۔اگر کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھو کہ مالک ہماری اصلاح کے لئے ایسا کرتا ہے۔پھر اس سے آگے اللہ توفیق دے تو اللہ کے اسماء پر، اللہ کے صفات و افعال پر، اللہ کی کتاب پر، اللہ کے رسول پر جولوگ اعتراض کرتے ہیں اور عیب لگاتے ہیں ان کو دُور کرو اور ان کا پاک ہونا بیان کرو۔658