نُورِ ہدایت — Page 656
نے جو ایم اے ہیں اعتراض کیا کہ موتی تو کیڑے کے لعاب سے پیدا ہوتا ہے۔یہ حال کی تحقیقات کا مشاہدہ ہے مگر جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ سیپ میں کیڑا کس چیز سے پیدا ہوتا ہے۔تو چونکہ ڈاکٹر تھے خاموش ہو گئے۔ایک اور الہام حضرت صاحب کا ہے جس کو تزکیۂ نفس اور ذکر سے تعلق ہے وہ یہ ہے۔إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ عُرِضَ عَلَى أَقْوَامٍ فَمَا دَخَلَ فِيْهِمْ وَمَا دَخَلُوا فِيْهِ إِلَّا قَوْمُ مُّنْقَطِعُوْنَ۔سبح اسم ربك الأعلى ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 / جولائی 1912ء) آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔اور اس کے لئے دو قسم کی چیزیں ضروری ہیں۔ایک جسم جو ہمیں نظر آتا ہے۔اس کے لئے ہوا کی ضرورت ہے۔کھانے، پینے، پہنے، مکان کی ضرورت ہے۔کوئی اس کا یار و غمگسار ہو۔اس کی ضرورت ہے۔دور دراز ملکوں کے دریاؤں کے اس پار جانے کی ضرورت ہے۔زمیندار کو کھیت کی ضرورت ہے۔کیا زمین انسان بنا سکتا ہے؟ پھر ہل کے لئے لکڑیاں چاہئیں۔مضبوط درخت ہو جب جا کر ہل بنتے ہیں۔ہل کے لئے لوہے کی ضرورت ہے۔پھر اوزار بھی لوہے کے ہوتے ہیں۔لوہے کا بھی عجیب کارخانہ ہے۔لوہا کانوں سے آتا ہے جس کے لئے کتنے ہی مزدوروں کی ضرورت ہے۔پھر اور کئی قسم کی محنتوں اور مردوں کے بعد ہل بنتا ہے۔مگر یہ بل بھی بیکار ہے جب تک جانور نہ ہوں۔پھر جانوروں کے لئے گھاس چارہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔پھر اس ہل چلانے میں علم فہم اور عاقبت اندیشی کی ضرورت ہے۔چنانچہ انہی کی مدد سے چھوٹے چھوٹے جتنے پیشے بنتے ہیں وہ عالی شان بنتے ہیں۔مثلاً چگی پینا ایک ذلیل کسب تھا۔علم کے ذریعہ ایک اعلیٰ پیشہ ہو گیا۔یہ جو بڑے بڑے میلوں کے کارخانے والے ہیں دراصل چگی پینے کا ہی کسب ہے۔اور کیا ہے؟ ایسا ہی گاڑی چلانا۔کیا معمولی کسب تھا۔گاڑی چلانے والا ہندوستان میں لنگوٹ باندھے ہوتا تھا۔اب گاڑی چلانے والے کیسے عظیم الشان لوگ ہیں۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے۔656