نُورِ ہدایت — Page 652
الَّذِي خَلَقَ فَسَوَى وَالَّذِي قَدَّدَ فَهَدَى۔خلق: تسویه تقدیر۔اور ہدایت۔ان چار باتوں کو علی الترتیب علت اور معلول کے سلسلہ میں بیان فرما کر حصول ترقی کے لئے راہ سمجھائی ہے۔روئے سخن صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کی طرف ہے اور مفہوم کے اعتبار سے ہر ترقی کے خواہاں کے لئے اس میں ہدایت ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 جولائی 1912ء) آیت الَّذِی خَلَقَ فَسَوی میں آریہ کا رڈ ہے جو خُلق عالم کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔اس مضمون کو بلفظ دیگر قرآن شریف میں یوں ادا فرمایا ہے۔الَّذِي أعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (طه 51) (ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 جولائی 1912ء) وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَى فَجَعَلَهُ عُمَّاءَ أَحْوَى۔مرغی : زمینی گھاس پات۔سبز۔مُقآء خشک کوڑا کرکٹ۔محقآء جمع ہے۔اس کا واحد مخفاة آیا کرتا ہے۔آخوی حوة سے مشتق ہے۔سبزی کے بعد کسی چیز کا سیاہ ہو جانا محوۃ ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مقابلہ میں کفار کا جو انجام ہونے والا تھا ان دو آیتوں میں دکھلایا ہے جو خس کم جہاں پاک کے مصداق ہو گئے۔روئے سخن ابوجہل، عتبہ، شیبہ، ربیعہ وغیرہ اس وقت کے کفار کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے مصداق اس کے ہر صادق، راستباز کے معاند ہیں۔انہیں کا وجود ان کے کھیت کے لئے کھاد بن جاتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 / جولائی 1912ء) سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرآن شریف جسے یاد ہے وہ اس کو پڑھتا پڑھاتا رہے۔اگر پڑھنے میں ڈھیل دے دی گئی تو وہ گھلے ہوئے اونٹ سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ سینوں سے نکل جاتا ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام سے ہر 652