نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 58 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 58

کر ہے اور تم آسمانوں اور زمینوں میں کوئی قابل تعریف صفات نہیں پاؤ گے جو تمہیں میری ذات میں نہ مل سکیں۔اور اگر تم میری قابل حمد صفات کو شمار کرنا چاہو تو تم ہر گز انہیں نہیں گن سکو گے۔اگر چہ تم کتنا ہی جان توڑ کر سوچو اور اپنے کام میں مستغرق ہونے والوں کی طرح ان صفات کے بارہ میں کتنی ہی تکلیف اٹھاؤ۔خوب سوچو! کیا تمہیں کوئی ایسی حمد نظر آتی ہے جو میری ذات میں نہ پائی جاتی ہو؟ کیا تمہیں ایسے کمال کا سراغ ملتا ہے جو مجھ سے اور میری بارگاہ سے بعید ہو؟ اور اگر تم ایسا گمان کرتے ہو تو تم نے مجھے پہچانا ہی نہیں اور تم اندھوں میں سے ہو۔بلکہ یقیناً میں ( اللہ تعالی ) اپنی ستودہ صفات اور اپنے کمالات سے پہچانا جاتا ہوں اور میری موسلادھار بارش کا پتہ میری برکات کے بادلوں سے ہوتا ہے۔پس جن لوگوں نے مجھے تمام صفات کا ملہ اور تمام کمالات کا جامع یقین کیا اور انہوں نے جہاں جو کمال بھی دیکھا اور اپنے خیال کی انتہائی پرواز تک انہیں جو جلال بھی نظر آیا انہوں نے اُسے میری طرف ہی نسبت دی۔اور ہر عظمت جو اُن کی عقلوں اور نظروں میں نمایاں ہوئی اور ہر قدرت جو ان کے افکار کے آئینہ میں انہیں دکھائی دی انہوں نے اسے میری طرف ہی منسوب کیا۔پس یہ ایسے لوگ ہیں جو میری معرفت کی راہوں پر گامزن ہیں۔حق ان کے ساتھ ہے اور وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت سے رکھے۔اُٹھو! خدائے ذوالجلال کی صفات کی تلاش میں لگ جاؤ اور دانشمندوں اور غور و فکر کرنے والوں کی طرح ان میں سوچ و بچار اور امعان نظر سے کام لو۔اچھی طرح دیکھ بھال کرو اور کمال کے ہر پہلو پر گہری نظر ڈالو۔اور اس عالم کے ظاہر میں اور اس کے باطن میں اسے اس طرح تلاش کرو جیسے ایک حریص انسان بڑی رغبت سے اپنی خواہشات کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔پس جب تم اس کے کمالِ تام کو پہنچ جاؤ اور اس کی خوشبو پالو تو گویا تم نے اسی کو پالیا اور یہ ایسا راز ہے جو صرف ہدایت کے طالبوں پر ہی کھلتا ہے۔پس یہ تمہارا رب اور تمہارا آقا ہے جو خود کامل ہے اور تمام صفات کا ملہ اور محامد کا جامع ہے۔اس کو وہی شخص پہچان سکتا ہے جو سورۃ فاتحہ میں تدبر کرے اور دردمند دل کے ساتھ خدا تعالیٰ سے مدد مانگے۔وہ 58 58