نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 651 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 651

قَد أَفْلَحَ مَن تَزَفى حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: فلاح وہ شخص پاوے گا جو اپنے نفس میں پوری پاکیزگی اور تقویٰ طہارت پیدا کر لے اور گناہ اور معاصی کے ارتکاب کا کبھی بھی اس میں دورہ نہ ہو اور ترک شر اور کسب خیر کے دونوں مراتب پورے طور سے یہ شخص طے کر لے تب جا کر کہیں اسے فلاح نصیب ہوتی ہے۔ایمان کوئی آسان سی بات نہیں۔جب تک انسان مربی نہ جاوے جب تک کہاں ہوسکتا ہے کہ سچا ایمان حاصل ہو۔الحکم جلد 12 نمبر 32 مورخہ 10 مئی 1908 صفحہ 3) حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سبح اسم ربك الأعلى۔اسيح : پاکی بیان کر۔شرک وغیرہ کے عیوب سے اس کی تنزیہ کر۔آیت شریف میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات کا ذکر ہے۔سٹوحیت۔ربوبیت۔علو شان۔اس کے ماتحت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تین پیشگوئیاں تھیں جو بڑی صفائی سے پوری ہوئیں۔آپ جنون، افتراء وغیرہ عیوب سے پاک تسلیم کئے گئے۔آپ کی ربوبیت مگی زندگی کی ادنی حالت سے يَوْمًا فَيَوْمًا بڑھتی گئی اور اعلیٰ ترین مقام پر یہاں تک پہنچائی گئی کہ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا - النصر (3) اور أَثْمَمتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي (المائدۃ4) کی آواز آپ نے سن لی۔روئے سخن پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے ہر صادق راست باز کے لئے عام مخاطبت ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان 4 جولائی 1912ء) 651