نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 646 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 646

جس نے جنگ اور قتال کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔اب اس کی آواز کو سن کر بھی مسلمان نہ سمجھیں اور اس انتظار میں بیٹھے رہیں تو ان کی بدقسمتی ہے۔جو یہ تشریح کرتے ہیں کہ مسیح کے آنے کے بعد اس نے کیا کرنا ہے۔اگر اس کو دیکھیں گے تو اُس مسیح نے کیا امن قائم کرنا ہے جوان کے نظریہ کے مطابق آئے گا۔اس نے تو طاقت سے صلیب کو بھی توڑنا ہے، اس نے تو قتل وغارت بھی کرنی ہے۔کیا قتل وغارت سے دنیا کے امن قائم ہوتے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ امن دو معنوں میں آتا ہے ایک معنی یہ ہیں کہ کسی کے لئے امن مہیا کرنا اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کو مومن کہا جاتا ہے، یعنی امن عطا کرنے والا۔اور امن کے دوسرے معنی ہیں۔خود امن میں آ گیا۔اسے طمانیت نصیب ہوگئی۔الایمان یہ لفظ تو کبھی اس شریعت کے لئے استعمال ہوتا ہے جو حضرت محمد مصطفی محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔جیسا کہ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّبِئُونَ (المائدة (70)۔اور مومن اس معنی کے لحاظ سے ہر اس شخص کو کہا جائے گا جو اللہ کی ہستی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا اقرار کرتے ہوئے اس کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور کبھی ایمان کا لفظ بطور مدح کے استعمال ہوتا ہے۔تب ایمان سے مراد ہوتا ہے اپنے نفس کو اس طرح حق کا مطیع بنادینا کہ حق کی تصدیق کرتا ہو۔جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس کی تفسیر میں روح المعانی میں مومن کے لفظ کے تحت لکھا ہے کہ اپنی اور اپنے رسولوں کی اس بارے میں تصدیق کرنے والا کہ انہوں نے اس کی طرف سے، یعنی اللہ کی طرف سے جو پیغام پہنچایا ہے وہ درست ہے، خواہ وہ یہ تصدیق اپنے قول سے کرے یا معجزات دکھانے سے کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کی وضاحت میں مومن کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” خدا امن کا بخشنے والا اور اپنے کمالات اور توحید پر دلائل قائم کرنے والا ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بچے خدا کا ماننے والا کسی مجلس میں شرمندہ نہیں ہوسکتا اور نہ خدا کے سامنے شرمندہ ہوگا کیونکہ اس کے پاس زبردست دلائل ہوتے ہیں۔لیکن بناوٹی 646