نُورِ ہدایت — Page 639
هُوَ اللهُ الَّذِى لَآاِلَة إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ (الحشر (24) وہی اللہ ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ بادشاہ ہے، پاک ہے، سلام ہے، امن دینے والا ہے، نگہبان ہے، کامل غلبہ والا ہے،ٹوٹے کام بنانے والا ہے اور کبریائی والا ہے۔پاک ہے اللہ اس سے جو شرک کرتے ہیں۔بعد ازاں حضرت خلیفہ اُسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس آیت کی تشریح بیان ایدہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک نام مؤمن ہے۔جو تر جمہ میں نے پڑھا ہے، اس میں مؤمن کے معنی امن دینے والے کے کئے گئے ہیں۔پس ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اُس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا ایک صفاتی نام جیسا کہ آپ نے سنا المُؤْمِن ہے۔پس اس نام سے فیض بھی وہی پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم صبغۃ اللہ کہ اللہ کے رنگ میں رنگین ہو، پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔اِس سے دُور ہو کر ہر امن کی کوشش رائیگاں جائے گی۔ہر کوشش کا آخری نتیجہ ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش ہوگا نہ کہ امن۔اور یہ امن اسی کو مل سکتا ہے جن کا ایمان کامل ہو۔اور اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل تب ہو گا جب اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء پر بھی ایمان ہو جیسا کہ اس نے فرمایا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم الانبیاء ہیں آپ پر ایمان لانا بھی اصل میں ایک مومن کو کامل الایمان بنا تا ہے۔آپ کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء پر ایمان لانے کا حکم اتارا اور ایک مسلمان کو اس کا پابند کیا۔اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کو اس بات کا بھی پابند فرمایا کہ تاریک زمانے کے بعد جب میرا مسیح و مہدی مبعوث ہو گا تو اسے ماننا، اسے قبول کرنا، اس کی بیعت 639